شائقین، کھلاڑی اور کوچ خوش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وقار یونس پاکستان میں دوبارہ بین الاقوامی میچوں کے شروع ہونے پر بہت خوش ہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس کے خیال میں چھ سال کے طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی سے بڑھ کر کوئی اور خوشی نہیں ہوسکتی۔

وقاریونس نے پیر کے روز بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان نے پچھلے چھ سال کے دوران کرکٹ نہ ہونے کا بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس دوران ہمارے سٹیڈیمز ویران ہوگئے اور کھلاڑی بھی دلبرداشتہ ہوگئے۔ زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کی آمد کے ساتھ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی بہت بڑا قدم ہے اور یہ سب کے لیے خوشی کا موقع ہے۔

وقار یونس نے کہا کہ وہ کافی دنوں سے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر زمبابوے کی ٹیم کے دورۂ پاکستان کے حق اور مخالفت کے بارے میں پڑھ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں ہمیں مثبت سوچ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کبھی نہ کبھی تو پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ شروع کرنی ہے اور کہیں نہ کہیں سے اس کی ابتدا ہونی ہے لہذا اگر یہ ابتدا زمبابوے کی ٹیم کے ذریعے ہونی ہے تو اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔

وقار یونس نے امید ظاہر کی کہ یہ پہلا قدم آنے والے برسوں میں دوسری ٹیموں کے لیے بھی راستہ کھول دے گا اور حالات یقیناً بہتری کی جانب جائیں گے۔

وقار یونس نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کے بارے میں جو منفی سوچ موجود ہے اور جس طرح ہماری ساکھ کو نقصان پہنچا ہے امید ہے کہ اس مختصر سیریز سے دنیا کو واضح طور پرایک مثبت پیغام جائے گا۔

پاکستانی ٹیم کے کوچ نے کہا کہ انہیں اپنے کھلاڑیوں اور خاص طور پر ان کھلاڑی کی خوشی کا بخوبی اندازہ ہے جو ابھی تک اپنے ہی میدانوں میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیل سکے ہیں ان کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے ون ڈے کپتان اظہرعلی، احمد شہزاد، اسد شفیق، عمراکمل، حارث سہیل، جنید خان اور کئی دیگر کرکٹرز نے اس عرصے میں انٹرنیشنل کرکٹ شروع کی جب پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی سرگرمیاں معطل رہیں۔

آف اسپنر سعید اجمل نے اب تک ایک سو تیرہ ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں لیکن ان میں صرف تین میچز پاکستان میں کھیلے گئے ہیں۔

وقار یونس نے کہا کہ وہ خود زمبابوے کی ٹیم کی پاکستان آمد پر بہت زیادہ پرجوش ہیں۔ وہ بنگلہ دیش جانے سے قبل قذافی سٹیڈیم گئے تھے اور وہ اب دوبارہ گئے ہیں انہیں ایک واضح فرق نظرآیا ہے اورانہیں یقین ہے کہ جب پہلا میچ ہوگا تو دنیا کو شائقین کا زبردست جوش وخروش دکھائی دے گا۔

اسی بارے میں