’آئی سی سی کس مرض کی دوا ہے؟‘

Image caption زمبابوے کی ٹیم دورۂ پاکستان کے دوران تین ون ڈے اور دو ٹی 20 میچ کھیلے گی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر عارف علی خان عباسی نے پاکستان اور زمبابوے کے درمیان محدود اوورز کی سیریز میں اپنے میچ آفیشلز نہ بھیجنے پر آئی سی سی پر سخت تنقید کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسا کر کے آئی سی سی نے دنیا کو منفی پیغام دیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں چھ سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے پہلے قدم کے طور پر زمبابوے کی کرکٹ ٹیم پاکستان آئی ہے۔

تاہم آئی سی سی نے اس سیریز کے لیے اپنے امپائرز اور میچ ریفری کو سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا ہے اور یہ میچ اب پاکستان اور زمبابوے کے امپائرز سپروائز کریں گے۔

عارف علی خان عباسی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے طور پر زبردست کوشش کر کے زمبابوے کی ٹیم کو پاکستان بلانے میں کامیاب ہوا ہے اور اس نے اسے سکیورٹی کی ہر ممکن یقین دہانی کرائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کو بھی پاکستان کی اس یقین دہانی پر اعتبار کرنا چاہیے تھا اور ’اس سیریز سے خود کو دور رکھ کر اس نے دنیا کو منفی پیغام دے دیا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ آئی سی سی کس مرض کی دوا ہے۔‘

عارف عباسی نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ کی پاکستان واپسی پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششوں کو سراہا جانا چاہیے اور یہ ہر پاکستانی کے لیے خوشی کا موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ زمبابوے کی ٹیم کے دورے کے باوجود دوسری ٹیموں کا پاکستان آنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ ان ٹیموں کو متحدہ عرب امارات میں کھیلنے کی عادت ہوچکی ہے اور وہ پاکستان آنے کے لیے آسانی سے تیار نہیں ہوں گی۔

ان کے مطابق ’اب یہ پاکستان کرکٹ بورڈ پرمنحصر ہے کہ وہ اپنی کوششوں میں کیسے کامیاب ہوتا ہے تاہم کرکٹ بورڈ کو اب اپنی توجہ ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیم کو پاکستان بلانے پر رکھنی ہوگی آئرلینڈ، ہالینڈ اور سکاٹ لینڈ پر نہیں۔‘

عارف علی خان عباسی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے جب اتنے بڑے پیمانے پر اخراجات کر کے یہ سیریز منعقد کی تو اسے صرف لاہور تک محدود رکھنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پانچ میں سے کم ازکم دو میچوں کی میزبانی پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو ہر صورت میں دی جانی چاہیے تھی۔یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کوئی ٹیم انگلینڈ کا دورہ کرے اور وہ لارڈز پر نہ کھیلے۔‘

اسی بارے میں