’زمبابوے ٹیم کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنا چاہتا ہوں‘

Image caption مہرخلیل کا کہنا ہے کہ سری لنکن کرکٹروں سے وہ آج بھی ای میل کے ذریعے رابطے میں ہیں

چھ سال قبل دہشت گردی کا نشانہ بننے والی سری لنکن کرکٹ ٹیم کے بس ڈرائیور مہر خلیل پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی پر بہت خوش ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ زمبابوے کی ٹیم کی بس کی ڈرائیونگ سیٹ بھی سنبھالیں۔

زمبابوے کی کرکٹ ٹیم پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کا چھ سالہ جمود توڑتے ہوئے پاکستان کے دورے پر پہنچی ہے۔

مہر خلیل کو پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک ایسے ہیرو کے طور پر پہچانا جاتا ہے جنھوں نے تین مارچ 2009 کو لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کی بس پر ہونے والے حملے میں بہادری دکھاتے ہوئے بس کو دہشت گردوں کے چنگل سے نکالا تھا۔

اگرچہ اس حملے میں چند سری لنکن کرکٹر زخمی ہوئے تھے لیکن ان کی جانیں بچ گئی تھیں۔

مہر خلیل کو اس بہادری پر سری لنکا کی حکومت اور کرکٹ بورڈ نے انعامات سے نوازا تھا جبکہ حکومت پاکستان نے بھی انھیں تمغۂ شجاعت دیا تھا۔

مہر خلیل بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی پر انھیں خوشی ہے اور وہ چاہیں گے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ انھیں دوبارہ یہ موقع دے کہ وہ زمبابوے کی ٹیم کی بس چلائیں۔ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔

Image caption مہر خلیل کو اس بہادری پر حکومت پاکستان نے انھیں تمغۂ شجاعت دیا تھا

مہر خلیل کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی نے چھ سال پرانا واقعہ پھر سے تازہ کر دیا ہے۔ اس واقعے نے پاکستان اور پاکستانی کرکٹ پر اتنا گہرا اثر چھوڑا ہے کہ اسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ یہ واقعہ گہرے زخم دے گیا ہے اب ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کسی ناخوشگوار واقعے کے بغیر کھیلی جائے کیونکہ ان چھ برسوں میں شائقین اس سے محروم رہے ہیں۔‘

مہرخلیل کا کہنا ہے کہ اگر ان کی جگہ کوئی دوسرا پاکستانی ہوتا تو وہ بھی سری لنکن ٹیم کو بچانے کے لیے بس کو دہشت گردوں کے چنگل سے نکالنے کی کوشش کرتا کیونکہ وہ مہمان تھے۔ اگر وہ چاہتے تو اس وقت بس چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ سکتے تھے لیکن ان کے ضمیر نے یہ گوارا نہیں کیا کہ وہ اپنے مہمانوں کو بے یارو مددگار چھوڑ کر بھاگتے۔ انھیں اپنے کیے پر فخر ہے۔

مہر خلیل کہتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد انھیں سری لنکا کی حکومت نے کولمبو بلایا تھا جہاں ان کے اعزاز میں تقاریب ہوئیں۔

مہر خلیل کا کہنا ہے کہ سری لنکن کرکٹروں سے وہ ’آج بھی ای میل کے ذریعے رابطے میں ہیں اور ہم ایک دوسرے کی خیریت معلوم کرتے رہتے ہیں۔‘

مہرخلیل نے کچھ عرصہ مراکش میں بھی سکونت اختیار کی جہاں ان کا فرنیچر کا کاروبار ہے لیکن اب وہ پھر پاکستان آگئے ہیں اور ایک کمپنی کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ کو غیرملکی ٹیموں کے یہاں آنے پر ٹرانسپورٹ مہیا کرتی آئی ہے۔

اسی بارے میں