اسرائیل کی فیفا سے معطلی پر ووٹنگ کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption اسرائیلی وزیر اعظم فلسطین اور اسرائیل کے مابین مجوزہ ’امن میچ‘ دیکھنے کے لیے میدان میں موجود ہوں گے: سیپ بلیٹر

فیفا کانگریس میں 29 مئی کو اسرائیل کی رکنیت کو ختم کرنے سے متعلق فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کی درخواست پر ووٹنگ ہو سکتی ہے۔

فلسطینی فٹبال فیڈریشن کے صدر جبرئیل رجب نے فیفا کے صدر سیپ بلیٹر سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن اپنی درخواست کو واپس نہیں لے گی اور چاہے گی کہ فیفا کانگریس اس پر ووٹنگ کرے۔

فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن نے 2013 میں فیفا میں درخواست دائر کی تھی کہ اسرائیل نے فلسطینی فٹبال کو بڑھنے سے روک دیا ہے لہٰذا اس کی ممبرشپ معطل کی جائے۔ فلسطین نے 2013 اور 2014 میں ایک سمجھوتے کے تحت اس درخواست کو فیفا کانگریس کے سامنے ووٹنگ کے پیش نہیں کیا تھا۔

فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہ جبرئیل رجب نے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی فیفا کانگریس کے باہر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’دوسرا فریق ہمیں تکالیف پہنچانے پر بضد ہے، لیکن ہم تشدد یا ہتھیاروں کا استعمال نہیں کر رہے ہیں، ہم صرف فیفا کے قانون کےتحت قانونی ذریعہ استعمال کر رہے ہیں۔‘

فیفا کے صدر سیپ بلیٹر نے فلسطین کو اپنی درخواست کو واپس لینے پر مائل کرنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے دورے کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ n

سیپ بلیٹر نے اسرائیل اور فلسطین کی فٹبال ٹیموں کے مابین امن میچ کی تجویز پیش کی ہے۔

فیفا کانگریس میں فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کی درخواست پر 29 مئی کو ووٹنگ ہونی ہے۔ اگر فیفا کانگریس نے اسرائیل کی رکنیت معطل کر دی تو اسرائیل کی تمام بین الاقوامی فٹبال سرگرمیاں رک جائیں گی۔ فیفا کے نئے صدر کا انتخاب بھی اسی فیفا کانگریس میں ہونا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو نے گذشتہ روز کہا تھاکہ اسرائیل فلسطینی فٹبال کی مدد کے لیے ’کچھ اقدامات‘ کرنے کے لیے تیار ہے۔ البتہ انھوں نے ’کچھ اقدامات‘ کی وضاحت نہیں کی۔

فیفا کے صدر سیپ بلیٹر نے کہا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے مابین فیفا کی زیر نگرانی ’امن میچ‘ کے انعقاد کی تجویز زیر غور ہے جسے دیکھنے کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم بھی گراونڈ میں موجود ہوں گے اور وہ ’ہر کسی‘ کے ساتھ ہاتھ ملائیں گے۔

سیپ بلیٹر نے اسرائیل میں حکام سے بات کرنے کے بعد کہا: ’میں نے ایک پیغام حاصل کر لیا ہے اور میں اسے فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے سامنے پیش کروں گا۔ وہ اس پیغام کا کیا کرتے ہیں یہ ان پر منحصر ہے، میں اس وقت تک کوشش کرتا رہوں گا جب تک فیفا کانگریس جاری ہے۔‘

اسرائیلی فٹبال تنظیم کے سربراہ روتم کیمر نے فلسطینی قراردار کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قرارداد کا کھیل سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ روتھم کیمر نے کہا کہ یہ فٹبال اور سیاست کا امتزاج ہے جسے فیفا میں جگہ نہیں ملنی چاہیے۔

فلسطینی فٹبال تنظیم کا موقف ہے کہ اسرائیل نے فلسطین میں فٹبال کے کھیل کو بڑھنے سے روک دیا ہے جس کے تحت اسے فیفا سے معطل کر دیا جائے۔

فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے جبرئیل رجب نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینی کھلاڑیوں پر غزہ اور اسرائیل کے زیرِ انتظام غرب اردن کے درمیان سفر کرنے پر پابندی عائد کی ہے اور ان کی کھیلوں کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈال رکھی ہے۔

اسرائیل کا موقف ہے کہ اس نے غربِ اردن میں سفر کرنے پر پابندیاں سکیورٹی خدشات کے تحت لگائی ہیں جہاں پر فلسطینی حکام کی خود ساختہ حکومت ہے اور غزہ کے ساتھ سرحد حماس کے زیرِ انتظام ہے۔

اسی بارے میں