’وزارت دفاع کے مشورے کے بعد زمبابوے نے دورے کا فیصلہ کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زمبابوے کے خلاف دو ٹی 20 میچز میں کانٹے کا مقابلہ رہا اور سٹیڈیم تماشائیو‎س پر نظر آیا

زمبابوے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنی ٹیم کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ زمبابوے کی وزارت دفاع سے صلاح و مشورے کے بعد کیا۔

کرکٹ کی معروف ویب سائٹ کرک انفو ڈاٹ کام کے مطابق چیئرمین ولسن مناسے نے بتایا کہ پاکستان میں کھیلنے کا تاریخی فیصلہ وزارت دفاع کی اس بات پر کیا گیا کہ پاکستان میں کھیلنے میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ حکومت کی سپورٹس اور ری کریئشن کمیٹی (ایس آر سی) کا خیال اس کے برعکس تھا۔

’ایس آر سی نے خارجہ امور کی وزرات سے بات چیت کی جہاں انھیں یہ بتایا گیا کہ پاکستان کا دورہ محفوظ نہیں بطور خاص کراچی کے واقعے کے بعد۔‘

Image caption ولسن مناسے نے کہا پاکستانی حکومت اپنے ملک کا دورہ کرنے والی کسی بھی ٹیم کے لیے مناسب طریقے اختیار کرنے کی اہل ہے

تاہم انھوں نے کہا کہ ’لاہور کراچی سے مختلف ہے۔ میں نے ایس آر سی کے عہدیداروں سے ملنے کی کوشش کی وہ سب مصروف تھے اور ہمارے لیے وقت بہت کم تھا ۔۔۔ اس لیے ہم نے حکومت کے مناسب عہدیداروں سے بات کی۔ دفاع کے پاس انٹیلجنس کی اطلاعات ہوتی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حالات سے باخبر رہتے ہیں اور انھوں نے اس علاقے کے دورے کی اجازت دی۔‘

ولسن مناسے نے کہا: ’وہاں (پاکستان کا دورہ) کھیلنا محفوظ ہے اس کے بعد جس ٹیم کو دورہ کرنا تھا اس نے بھی حالات کو دیکھتے ہوئے منظوری دی پھر ہم نے فیصلہ کیا۔‘

خیال رہے کہ مارچ سنہ 2009 میں سری لنکا کی ٹیم کی بس پر مسلح افراد کے حملے بعد سے پاکستان میں کرکٹ کے بین الاقوامی میچ نہیں ہو رہے ہیں اور پاکستان اپنی گھریلو سیریز کے لیے متحدہ عرب امارات میں میچز کھیل رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زمبابوے ٹیم کے دورے کے لیے پاکستان نے سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں

زمبابوے کی ٹیم آئی سی سی کی مکمل رکنیت رکھنے والی پہلی بین الاقوامی ٹیم ہے جس نے گذشتہ چھ سال میں پاکستان کا دورہ کیا ہے اور اس دورے سے یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ کرکٹ کی بین الاقوامی برادری میں پاکستان میں کھیلنے کے لیے شبیہ بہتر ہوگی۔

ولسن مناسے نے کہا: ’جو ممالک پاکستان کے بارے میں محتاط رویہ رکھتے ہیں انھیں اپنے مندوبین کو یہاں کرکٹ دیکھنے کے لیے بھیجنا چاہیے تھا تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ پاکستان میں کیاہو رہا ہے ۔۔۔ وہ گراؤنڈ کو کھچا کھچ بھرا ہوا پائیں گے اور حکومت نے سکیورٹی کے جو انتظامات کیے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی حکومت اپنے ملک کا دورہ کرنے والی کسی بھی ٹیم کے لیے مناسب طریقے اختیار کرنے کی اہل ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہد آفریدی کی کپتانی میں پاکستان نے دونوں ٹی20 میچز میں کامیابی حاصل کی

اس دورے میں پاکستان کے خلاف دو ٹی 20 اور تین ون ڈے میچوں کی سیریز جاری ہے۔

پاکستان نے دونوں ٹی 20 میچز میں کامیابی حاصل کی ہے اور آج منگل سے ون ڈے سیریز کا آغاز ہو رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان اگر اس سیریز کے تینوں میچز جیتنے میں کامیاب رہتا ہے تو وہ آئندہ سال چیمپیئنز ٹرافی میں شرکت کا مجاز ہوگا۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش کے حالیہ دورے میں پاکستان کی شکست فاش کے نتیجے میں اس کی عالمی رینکنگ نو پر پہنچ گئی ہے۔

اسی بارے میں