’جنوبی افریقہ میں فیفا ورلڈ کپ کرانے کے لیے رشوت دی گئی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کےسات سرکردہ عہدیداروں کو بطور رشوت 15 کروڑ ڈالر لینے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے

امریکی اٹارنی جنرل لوریٹا لینچ کا کہنا ہے کہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے عہدیداران نے جنوبی افریقہ میں 2010 کا ورلڈ کپ کرانے کے لیے رشوت لی تھی۔

لوریٹا لِنچ نے یہ بات فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے حوالے سے کی گئی تحقیقات کے بارے میں پریس کرنفرنس کرتے ہوئے کہی۔

کرپشن کے الزامات، فیفا کے الیکشن وقت پر

انھوں نے فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا پر الزام عائد کیا کہ 2011 میں فیفا کے صدر کے انتخاب پر بھی رشوت دی گئی تھی اور اس کے علاوہ 2016 میں کوپا لبرتادوریس ٹورنامنٹ میں بھی رشوت دی گئی تھی۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کےسات سرکردہ عہدیداروں کو بطور رشوت 15 کروڑ ڈالر لینے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے۔

2018 اور 2022 میں ہونے والے فٹ بال کے عالمی مقابلوں کی میزبانی دیے جانے کے بارے میں بھی ایک علیحدہ مجرمانہ تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں پولیس کی جانب سے فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کےسات سرکردہ عہدیداروں کو بطور رشوت 15 کروڑ ڈالر لینے کے جرم میں حراست میں لینے کے باوجود فیفا کے صدارتی الیکشن اپنے طے شدہ دن یعنی جمعے کو ہوں گے۔

امریکی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’فیفا کے سرکردہ عہدیداران نے رشوت لینے کے لیے اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے ایسا بار بار کیا، ایک سال کے بعد دوسرے سال، ایک ٹورنامنٹ کے بعد دوسرے ٹورنامنٹ میں۔‘

حراست میں لیے جانے والے عہدیداروں میں فیفا کے نائب صدر جیفری ویب بھی شامل ہیں۔

تاہم فیفانے عالمی مقابلوں کے لیے دوبارہ ووٹنگ کرانے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ فیفا کا اصرار ہے کہ عالمی مقابلوں کی میزبانی بالترتیب روس اور قطر ہی کریں گے۔

جمعے کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں سیپ بلیٹر کا مقابلہ پرنس علی ابن الحسین سے ہوگا۔ سیپ اس الیکشن میں کامیاب ہو کر پانچویں بار فیفا کے صدر کے طور پر منتخب ہونے کے خواہش مند ہیں۔

پرنس علی نے بدھ کو ہونے والے اس واقعے کو ’فٹبال کا سوگوار ترین دن‘ قرار دیا ہے تاہم انھوں نے اس کے بارے میں مزید بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

فیفا کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اس قسم کے اقدامات کا خیر مقدم کیا اور کہا ہے کہ ان اقدامات سے فٹبال میں ہونے والے کسی بھی قسم کے غلط کاموں کو جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں