میں فٹبال کرپشن سکینڈل کا ذمہ دار نہیں: سیپ بلاٹر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا کے صدر مائیکل پلاٹینی نے بلاٹر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے

بدعنوانی کے الزامات میں گھری فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر سیپ بلاٹر نے اس کھیل کو ’شرمسار اور بدنام‘ کرنے والے ’انفرادی اعمال‘ کی مذمت کی ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ انھیں فٹبال میں ہونے والی اس کرپشن کا ’قطعی طور پر ذمہ دار‘ قرار دیا جا سکتا ہے تاہم وہ ’ہر وقت اور ہر کسی کی نگرانی نہیں کر سکتے۔‘

سیپ بلاٹر نے یہ بات جمعرات کو تنظیم کے سات عہدیداران کی گرفتاری کے بعد زیورخ میں جاری تنظیم کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

’بدعنوان افراد کی فٹبال کے کھیل میں کوئی جگہ نہیں‘

خیال رہے کہ فٹبال کرپشن سیکنڈل سامنے آنے کے بعد سیپ بلاٹر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاہم انھوں نے جمعے کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب بڑے فیفا کے بڑے سپانسرز نے کرپشن سکینڈل پر امریکہ اور سوئس حکام کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

زیورخ میں تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیپ بلاٹر کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے رونما ہونے والے واقعات کے فٹبال کے کھیل پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ کچھ افراد کے انفرادی اعمال کی وجہ سے فٹبال کا کھیل بدنام ہوا۔ انھوں نے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرنے اور انھیں ان کے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

سیپ بلاٹر کا کہنا تھا کہ ہم فٹبال اور فیفا کی ساکھ کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے اور اب اسے روکنا ہو گا۔

انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ’آنے والے چند مہینے آسان نہیں ہوں گے اور مجھے یقین ہے کہ ابھی مزید بری خبریں آئیں گی‘۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ’جمعہ کو ہونے والے ووٹ کے ساتھ ہمارے پاس ایک اور موقع ہے کہ ہم اپنا کھوئے ہوئے اعتبار کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اگرچہ یہ سفر بہت طویل اور مشکل ہو گا۔‘

ادھر برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا کے صدر مائیکل پلاٹینی نے بلاٹر سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سے پہلے یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا کے صدر مائیکل پلاٹینی نے فیفا کنفیڈریشنز کے صدرو اور بلاٹر کے ساتھ ہنگامی ملاقات کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بڑے فیفا کے بڑے سپانسرز نے کرپشن سکینڈل پر امریکہ اور سوئس حکام کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات پر تشویش کا اظہار کیا ہے

مائیکل پلاٹینی کا کہنا تھا کہ انھوں نے بلاٹر سے ’ایک دوست کے طور پر مستعفی ہونے‘ کا کہا تھا۔

یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے کہا ہے کہ وہ جمعہ کو ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گے بلکہ وہ اردن کے شہزارے اور دوسرے امیدوار علی بن حسین کو ووٹ دیں گے۔

مائیکل پلاٹینی نے کہا کہ اگر بلاٹر جمعے کو ہونے والا انتخاب جیت گئے تو یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا برلن میں ایک غیر معمولی اجلاس طلب کر سکتی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یوئیفا فیفا کے تمام مقابلوں سے دست بردار ہو سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا ’ہم تمام معاملات پر بات کریں گے۔‘

واضح رہے کہ بدھ کو سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں پولیس نے فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے سات سرکردہ عہدیداروں کو حراست میں لیا تھا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق گرفتاریوں کا مقصد ان افراد کو امریکہ کے حوالے کرنا ہے جہاں ان پر مالی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

امریکی حکام نے اب تک اس سلسلے میں 14 افراد پر منی لانڈرنگ، دھوکہ دہی اور کمیشن لینے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی ہے۔

اسی بارے میں