فیفا انتخابات، بلیٹر کو پہلے مرحلے میں برتری حاصل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 79 سالہ بلیٹر پانچویں مرتبہ یہ عہدہ سنبھالنے کے خواہشمند ہیں اور ان کا مقابلہ اردن کے 39 سالہ شہزادہ علی ابن الحسین سے ہے

بدعنوانی کے الزامات میں گھری فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے کل 209 ارکان میں سے 133 نے موجودہ صدر سیپ بلیٹر پر ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں جمعے کو ہونے والے تنظیم کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں دونوں امیدواروں میں سے کوئی بھی دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکا جس کی بنا پر دوسرے مرحلے کی ووٹنگ جاری تھی۔

یہ انتخاب ایک ایسے موقعے پر ہو رہا ہے جب دو دن قبل زیورخ سے ہی فیفا کے دو نائب صدور سمیت سات عہدیداروں کو امریکہ میں جاری فراڈ اور بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے۔

’بدعنوان افراد کی فٹبال کے کھیل میں کوئی جگہ نہیں‘

امریکی حکام نے اب تک اس سلسلے میں 14 افراد پر منی لانڈرنگ، دھوکہ دہی اور کمیشن لینے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی ہے۔

ان گرفتاریوں کے بعد اس انتخاب میں فیورٹ قرار دیے جانے والے امیدوار اور تنظیم کے موجودہ صدر سیپ بلیٹر کے استعفے کے مطالبات بھی سامنے آئے لیکن انھوں نے کہا ہے کہ وہ اس سکینڈل کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں۔

79 سالہ بلیٹر پانچویں مرتبہ یہ عہدہ سنبھالنے کے خواہشمند ہیں اور ان کا مقابلہ اردن کے 39 سالہ شہزادہ علی ابن الحسین سے ہے۔

جمعے کو ووٹنگ سے قبل دونوں امیدواروں کو ووٹ دینے والے رکن ممالک کے نمائندوں سے خطاب کے لیے 15 منٹ کا وقت دیا گیا۔

ان خطابات کے بعد 209 رکن ممالک کے نمائندے ووٹ دیں گے اور پہلے مرحلے میں دونوں میں سے ایک امیدوار کو فتح کے لیے کم از کم 140 ووٹ یا دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سیپ بلیٹر کا کہنا تھا کہ فٹبال اور فیفا کی ساکھ کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

اگر کوئی بھی امیدوار اتنے ووٹ نہیں لے پایا تو دوسرے مرحلے میں فاتح کا فیصلہ سادہ اکثریت سے ہو گا۔

جمعرات کو فیفا کے دو روزہ سالانہ اجلاس کے پہلے دن اپنے خطاب میں سیپ بلیٹر نے کھیل کو ’شرمسار اور بدنام‘ کرنے والے ’انفرادی اعمال‘ کی مذمت کی تھی۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ انھیں فٹبال میں ہونے والی اس کرپشن کا ’قطعی طور پر ذمہ دار‘ قرار دیا جا رہا ہے تاہم وہ ’ہر وقت اور ہر کسی کی نگرانی نہیں کر سکتے۔‘

اپنی تقریر میں سیپ بلیٹر کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے رونما ہونے والے واقعات کے فٹبال کے کھیل پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ کچھ افراد کے انفرادی اعمال کی وجہ سے فٹبال کا کھیل بدنام ہوا۔ انھوں نے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرنے اور انھیں ان کے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

سیپ بلیٹر کا کہنا تھا کہ ہم فٹبال اور فیفا کی ساکھ کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے اور اب اسے روکنا ہو گا۔

انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ’آنے والے چند مہینے آسان نہیں ہوں گے اور مجھے یقین ہے کہ ابھی مزید بری خبریں آئیں گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فیفا کے دو نائب صدور سمیت سات عہدیداروں کو امریکہ میں جاری فراڈ اور بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے

تاہم انھوں نے کہا کہ ’جمعے کو ہونے والے ووٹ کے ساتھ ہمارے پاس ایک اور موقع ہے کہ ہم اپنا کھوئے ہوئے اعتبار کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اگرچہ یہ سفر بہت طویل اور مشکل ہو گا۔‘

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا کے صدر میشل پلاٹینی نے بلیٹر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

پلاٹینی نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر بلیٹر جمعے کو ہونے والا انتخاب جیت گئے تو یوئیفا برلن میں ایک غیر معمولی اجلاس طلب کر سکتی ہے۔

یوئیفا نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے ارکان جمعے کو ہونے والے انتخاب کا بائیکاٹ تو نہیں کریں گے لیکن وہ بلیٹر کے مخالف امیدوار علی بن حسین کو ووٹ دیں گے۔

گذشتہ سترہ سال سے فیفا کے صدر رہنے والے بلیٹر کو ایشیا، لاطینی امریکہ اور افریقہ میں تنظیم کے ارکان کی حمایت حاصل ہے اور اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اس مرتبہ بھی انتخاب جیت جائیں گے۔

نائجیریا کی فٹبال ایسوسی ایشن اماجُو پِنک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں سو فیصد یقین ہے کہ مسٹر بلیٹر جیت جائیں گے اور انھیں 54 افریقی ارکان میں سے کم از کم 50 کے ووٹ ملیں گے۔

’ہم اپنے ایشیائی دوستوں اور لاطینی امریکہ کے دوستوں کو بھی جانتے ہیں، اس لیے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مسٹر بلیٹر ایک اچھی فتح سے ہمکنار ہوں گے۔‘

جہاں تک پرنس علی کا تعلق ہے تو انھیں یورپ کی حمایت حاصل ہے۔

بدعنوانی کے سکینڈل پر پرنس علی کا کہنا تھا کہ فیفا کو ایک ایسی نئی قیادت کی ضرورت ہے جو ’ اپنے کیے کی ذمہ داری قبول کرے اور ملبہ دوسروں پر نہ ڈالے اور دنیا بھر میں فٹبال کے کروڑوں شائقین میں تنظیم کا اعتماد بحال کرے۔‘

’میں صاف اور سیدھی بات کرنے والا شخص ہوں اور میرے خیالات بھی بڑے سادہ ہیں، میں وہ شخص ہوں جسے اس کھیل سے محبت ہے۔‘

زیورخ سے بی بی سی کے کھیلوں کے نامہ نگار ایلکس کیپسٹک کا کہنا ہے کہ پرنس علی شاید انتخاب نہ جیت سکیں لیکن وہ آگے بڑھ رہے ہیں اور ایک مرتبہ مسٹر بلیٹر کی ’نکسیر ضرور نکال سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں