’فیفا کرپشن سکینڈل میں مزید نام سامنے آسکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption اس کرپشن اسکینڈل میں مبینہ طو پر امریکی بینک اکاؤنٹ استعمال ہوئے ہیں

برطانیہ کی پہلی ایشین خاتون فٹبال ایجنٹ اور قانون داں شہنیلا احمد کے خیال میں ایف بی آئی کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور کرپشن سکینڈل میں فیفا کے مزید کئی افسران کے نام سامنے آسکتے ہیں۔

شہنیلا احمد نے جو انگلینڈ کی فٹبال ایسوسی ایشن (ایف اے) کی رجسٹرڈ ایجنٹ ہیں بی بی سی کے پروگرام ’ کھیل کے میدان سے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آئی کے پاس جب تک ٹھوس ثبوت موجود نہ ہوں وہ کسی پر ہاتھ نہیں ڈالتی اور وہ فیفا میں کرپشن کی تحقیقات پچھلے تین سال سے کر رہی ہے۔

اس کی یہ تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہیں اور یقینی طور پر حراست میں لیےگئے فیفا کے اعلیٰ افسران سے اہم معلومات حاصل ہوں گی اور ان کی روشنی میں مزید ملوث افسران کے نام سامنے آسکتے ہیں ایسی صورت میں فیفا کا صدارتی انتخاب اسوقت تک ملتوی کردیا جاتا جب تک ایف بی آئی کی تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ الیکشن جلد بازی میں کرائے جارہے ہیں۔

شہنیلا احمد نے کہا کہ بہت سے لوگ یہ اعتراض کررہے ہیں کہ امریکہ اس معاملے میں کیوں پیش پیش ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کرپشن سکینڈل میں مبینہ طو پر امریکی بینک اکاؤنٹ استعمال ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایف بی آئی کی تحقیقات میں یہ بھی ممکن ہے کہ سیپ بلاٹر سے کہا جائے کہ وہ امریکہ جاکر اپنا بیان ریکارڈ کرائیں کیونکہ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ انہی کے دور میں ہوا ہے۔

شہنیلا احمد نے کہا کہ فیفا میں کئی برسوں سے جاری کرپشن سے سیپ بلاٹر خود کو کیسے بری الذمہ قرار دے سکتے ہیں کہ انہیں اس کا پتہ نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ بلاٹر نے وہی کیا ہے جو انھوں نے چاہا ہے ۔ وہ کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ فیفا میں ایسی کوئی گورننگ باڈی نہیں جو ان کا احتساب کرسکے۔

شہنیلا احمد نے کہا کہ ورلڈ کپ کی میزبانی کے بارے میں گارسیا رپورٹ مکمل طور پر شائع نہیں ہونے دی گئی اور ایک برائے نام سمری جاری کردی گئی۔

انھوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ورلڈ کپ کی میزبانی نہ ملنے پر انگلینڈ نے بلاٹر کے خلاف مہم شروع کررکھی ہے کیونکہ بلاٹر کے خلاف صرف انگلینڈ نہیں بلکہ پوری یوایفا ہے جس کے صدر مشل پلاٹینی بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ بلاٹر کو اب صدر کا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

شہنیلا احمد نے کہا کہ فٹبال میں بہت پیسہ ہے لیکن اس کے غلط استعمال کے نتیجے میں فیفا کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے اور فیفا کے افسران کے اس گھناؤنے کھیل نے پوری دنیا کی فٹبال کو بدنام کردیا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ فیفا کے موجودہ بورڈ کو تحلیل کردیا جائے اور نئے لوگوں سے بین الاقوامی فٹبال کے معاملات چلائے جائیں۔

اسی بارے میں