پاکستان نے 17 ماہ بعد پہلی ون ڈے سیریز جیت لی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستانی ٹیم کو اس کے پہلے سری لنکا، آسٹریلیا نیوزی لینڈ (دو مرتبہ) اور بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے لگاتار پانچ ون ڈے سیریز ہارنے کے بعد بالآخر پہلی سیریز جیت لی ہے۔

پاکستان نے آخری بار دسمبر نسہ 2013 میں سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ون ڈے سیریز تین دو سے جیتی تھی جس میں کپتان مصباح الحق اور کوچ ڈیو واٹمور تھے۔

واٹمور کی پاکستانی ٹیم کے ساتھ وہ آخری سیریز تھی۔وہ اب زمبابوے کے کوچ ہیں۔

پاکستانی ٹیم کو اس کے پہلے سری لنکا، آسٹریلیا نیوزی لینڈ (دو مرتبہ) اور بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یہ پانچوں ناکامیاں کوچ وقاریونس کے کھاتے میں لکھی گئی تھیں لہذا زمبابوے کے خلاف جیت پر یقیناً سب سے زیادہ خوش کوچ وقاریونس ہی ہوں گے۔

کپتان بننے کے بعد اظہرعلی کی ون ڈے کی بیٹری بھی چارج ہوگئی ہے۔ انھوں نے دوسرے ون ڈے میں اپنی دوسری ون ڈے سنچری سکور کی۔

کپتان کی حیثیت سے پانچ میچوں میں یہ ان کی 50 سے زائد رنز کی چوتھی اننگز تھی جن میں دو سنچریاں شامل ہیں۔

پاکستانی ٹیم کو میچ اور سیریز جیتنے کے لیے 269 رنز کا ہدف ملا تھا۔

سرفراز احمد محمد حفیظ اور اسد شفیق کی طرف سے قابل ذکر کارکردگی سامنے نہ آسکی حالانکہ اس بار اسد شفیق کو چوتھے نمبر پر بھیجا گیا تھا لیکن وہ 39 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کپتان بننے کے بعد اظہرعلی کی ون ڈے کی بیٹری بھی چارج ہوگئی ہے۔ انھوں نے دوسرے ون ڈے میں اپنی دوسری ون ڈے سنچری سکور کی

یہ اظہرعلی کی سنچری تھی جس نے پاکستانی ٹیم کی جیت کی طرف پیش قدمی جاری رکھی لیکن جب وہ 41 ویں اوور کی پہلی گیند پر آؤٹ ہوئے تو پاکستانی ٹیم کو جیت کے لیے 58 گیندوں پر 60 رنز درکار تھے۔

حارث سہیل اور شعیب ملک نے 48 ویں اوور میں پاکستانی ٹیم کو چھ وکٹوں سے میچ اور سیریز جتوادی۔

حارث سہیل نے ناقابل شکست نصف سنچری سکور کی۔

زمبابوے کے لیے اس میچ سے قبل ہی مسائل کھڑے ہوگئے تھے ۔ کپتان چگمبورا سلو اوور ریٹ کی وجہ سے دو میچوں کی معطلی کی زد میں آگئے جبکہ کریگ ارون ہمسٹرنگ کی تکلیف کے سبب ٹیم سے باہر ہوئے۔

زمبابوے کی ٹیم چار تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتری جبکہ پاکستان نے پہلے ون ڈے کی ٹیم پر ہی اعتماد برقرار رکھا۔

زمبابوے کی ٹیم پہلے ون ڈے کی طرح اس میچ میں بھی ایک بڑا سکور کرسکتی تھی لیکن امپائر شوزیب رضا کے دو فیصلوں نے مہمان ٹیم کے دو اہم بیٹسمینوں کو حیرانی سے دوچار کردیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زمبابوے کو ایک معقول سکور تک پہنچانے والے سکندر رضا تھے جنھوں نے اپنی دوسری ون ڈے سنچری سکور کرتے ہوئے بہت ہی عمدہ اننگز کھیلی

شوزیب رضا نے چگمبورا کی جگہ کپتانی کرنے والے ہملٹن ماساکادزا کو ریورس سوئپ کرنے کی کوشش میں محمد حفیظ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ دیا جبکہ ری پلے سے ظاہر ہوتا تھا کہ گیند گلوز یا بلے سے نہیں لگی۔

شوزیب رضا کا دوسرا فیصلہ زمبابوے پر بجلی بن کر گرا جب انھوں نے چبھابھا کو 99 کے انفرادی سکور پرسرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کافی دیر سوچنے کے بعد صرف وکٹ کیپر کے پرجوش ری ایکشن پردے دیا۔

نامکمل ٹیکنالوجی ایک بار پھر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ گیند بلے یا گلوز سے لگی تھی۔

چبھا بھا اپنی اولین سنچری سے محروم ہوکر زمبابوے کے پہلے بیٹسمین بن گئے جو ون ڈے انٹرنیشنل میں 99 پر آؤٹ ہوئے۔

زمبابوے کو ایک معقول سکور تک پہنچانے والے سکندر رضا تھے جنھوں نے اپنی دوسری ون ڈے سنچری سکور کرتے ہوئے بہت ہی عمدہ اننگز کھیلی۔

سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے سکندر رضا جو آنکھوں کے ٹیسٹ میں فیل ہونے کے سبب پائلٹ بنتے بنتے رہ گئے اب زمبابوے کی ٹیم کا حصہ ہیں۔ انھوں نے 84 گیندوں پر تین چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے 100 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔

پاکستانی سپنرز یاسر شاہ محمد حفیظ اور شعیب ملک نے مجموعی طور پر اپنے 19 اوورز میں صرف 86 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں لیکن تیز بولرز پسینہ بہاتے رہے۔

محمد سمیع وہاب ریاض اور انور علی تینوں نے رنز دینے کی نصف سنچری سکور کی۔

سمیع کے لیے آٹھویں اوور تک سب کچھ صحیح تھا لیکن نویں اوور میں سکندر رضا نے دو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 17 رنز بنا ڈالے۔

اسی بارے میں