’آئی سی سی کو امپائر پاکستان بھیجنے چاہیے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے سے ملک میں کرکٹ کا بہت نقصان ہوا ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے موقعے پر آئی سی سی کو اپنے میچ ریفری اور امپائر پاکستان بھیجنے چاہیے تھے۔

وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ زمبابوے کی ٹیم کا پاکستان آ کر کھیلنا خوش آئند بات ہے اور اب امید کی جا سکتی ہے کہ مزید ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی، تاہم اس ضمن میں آئی سی سی کو بھی مثبت انداز اختیار کرنا چاہیے تھا۔

انھوں نے کہا کہ چھ سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بحال ہوئی ہے، اس لیے ممکن ہے کہ آئی سی سی اپنے میچ آفیشلز پاکستان بھیجنے کے سلسلے میں پریشان ہو، لیکن امید ہے کہ آئندہ وہ اپنے میچ آفیشلز پاکستان بھیجے گی۔

وسیم اکرم نے کہا کہ زمبابوے کی ٹیم کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے کہ اس نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کا جمود توڑا۔

انھوں نے کہا کہ جب بھی کوئی سیریز ہوم گراؤنڈ پر ہوتی ہے اس کا تاثر مختلف اور بھرپور ہوتا ہے۔ کھلاڑی اپنے شائقین کے سامنے کھیلنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور شائقین بھی اپنے ہیروز کو دیکھنا چاہتے ہیں۔

سابق کپتان نے کہا کہ جب وہ نوجوان تھے تو عمران خان، جاوید میانداد، ایلن بورڈر اور میلکم مارشل کو دیکھ کر ان میں جوش پیدا ہوتا تھا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب آپ ورلڈ کلاس کرکٹروں کو اپنے سامنے کھیلتا دیکھیں۔

انھوں نے کہا کہ چھ سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے اور پاکستان کو اس عرصے میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کا بہت نقصان ہوا ہے۔

وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیریز ہر حال میں ہونی چاہیے کیونکہ پوری دنیا کو اس کا شدت سے انتظار ہے۔ پاک بھارت کرکٹ کا کوئی دوسری کرکٹ مقابلہ نہیں کر سکتی۔

اسی بارے میں