کک ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے کامیاب برطانوی بیٹسمین

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption موجود زمانے میں کرکٹ کھیلنے والوں میں صرف سری لنکا کے کمار سنگاکارا واحد ایسے کھلاڑی ہیں جو ایلسٹر کک سے آگے ہیں

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان ایلسٹر کُک اپنے ملک کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز سکور کرنے والے بلے باز بن گئے ہیں۔

30 برس کے کک نے یہ ریکارڈ ہیڈنگلے میں نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن قائم کیا۔

کُک سے پہلے یہ ریکارڈ گراہم گوچ کے پاس تھا جنھوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں آٹھ ہزار نو سو رنز بنائے تھے اور اس ریکارڈ کو 1995 سے اب تک کوئی نہیں توڑ سکا تھا۔

تاہم ایلسٹر کک نے جنھوں نے 2006 میں ٹیسٹ کرکٹ شروع کی، ایک سو چودہویں میچ میں 46 سے زیادہ کی اوسط سے آٹھ ہزار نو سو دو رنز بنائے ہیں۔

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے کک دنیا میں ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ رن بنانے والوں کی فہرست میں تیرہویں نمبر پر آگئے ہیں۔

موجود زمانے میں کرکٹ کھیلنے والوں میں صرف سری لنکا کے کمار سنگاکارا واحد ایسے کھلاڑی ہیں جو ایلسٹر کک سے آگے ہیں۔ اس فہرست میں سب سے اوپر بھارت کے مایہ ناز کھلاڑی سچن تندولکر ہیں جن کے رنز کی تعداد 15 ہزار نو سو اکیس ہے۔

انگلینڈ کے ایلسٹر کک کے علاہ ٹیسٹ کرکٹ میں آٹھ ہزار رنز سے زیادہ رنز بنانے والے انگلینڈ کے کھلاڑیوں میں بالترتیب گراہم گوچ (8900) ایلک سٹیورٹ (8463) ڈیوڈ گاور (8231) اور کیون پیٹرسن (8181) شامل ہیں۔

نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن لنچ کے بعد کک نے سات اوروں میں صرف دو رنز بنائے۔ تاہم ٹِم سودی کی گیند پر پوائٹ کی طرف ڈرائیو کرتے ہوئے چار رنز بنا کر کک نے بیٹنگ کوچ گراہم گوچ کو سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں پیچھے چھوڑ دیا۔

انھوں نے ریکارڈ قائم کرنے کے بعد اپنا بلا ہوا میں بلند کیا اور ان کے ساتھی کھلاڑی ایڈیم لِتھ نے انھیں گلے لگا کر مبارکباد دی جبکہ تماشائیوں نے کھڑے ہوکر انھیں اس کارنامے پر داد دی۔ وہ 75 رن بنا کر مارک کریگ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے۔

بی بی سی کے کرکٹ کے نامہ نگار جوناتھن ایگنیو کے مطابق ایلسٹر کک کے لیے انگلینڈ کی طرف سے یہ کارنامہ سر انجام دینا بہت بڑی بات ہے۔ وہ 30 سال کے ہیں اور مزید چار پانچ سال کھیل سکتے ہیں جن میں وہ 40 سے 50 کے قریب ٹیسٹ میچ اور کھیل سکتے ہیں اور 11 ہزار سے زیادہ رنز سکور کر سکتے ہیں۔

انگلینڈ ہی کے سابق بلے باز جیفری بائکاٹ کا کہنا تھا ’جب کک اچھا کھیل رہے ہوتے ہیں، تو دنیا کے سب سے بڑے اوپننگ بیٹسمین ہوتے ہیں۔ میں اس کارنامے کو ان کا بڑا سنگِ میل نہیں سمجھتا۔ اس سے زیادہ اہم ان کی سنچریاں، ان کی میچ وننگ اننگز اور یہ کہ وہ اپنی فارم میں واپس آگئے ہیں۔‘

انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے کہا ’ایلسٹر کک کے ریکارڈ کے بارے میں سب سے حیران کن بات یہ ہے ابھی ان کی عمر 30 سال ہے۔ ہم کک کے ٹیلنٹ کے بارے میں انگلینڈ میں زیادہ بات نہیں کرتے۔ ان میں پکا اردہ ہے، توجہ ہے اور کھیل کی مضبوط منصوبہ بندی ہے۔ ان کا ٹیلنٹ، ان کی طاقت، ان کا کردار کسی بھی ایسے پلیئر سے زیادہ ہے جس کے ساتھ میں کھیلا ہوں۔‘

ان کے ساتھی کھلاڑی اور سابق بلے باز کیون پیٹرسن نے ٹویٹ کی ’ماضی میں کسی نے میرے حوالے سے کہا تھا کہ کک سچن کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔ تیس سال کی عمر میں اب بھی ان کے پاس یہ امکان موجود ہے۔‘

عالمی کرکٹ کونسل نے بھی ایلسٹر کک کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے اگرچہ انھوں نے کک کے نام کے ہجے غلط کر دیے۔‘

اسی بارے میں