’دھماکے کے باوجود سیریز کا آخری میچ کھیلا جائے گا‘

Image caption سیریز کے دوران سکیورٹی کے لیے پولیس کے علاوہ نیم فوجی دستے رینجرز کی خدمات حاصل ہیں

پاکستان میں حکام کے مطابق قذافی سٹیڈیم کے قریب ایک مبینہ بم دھماکے کے باوجود اتوار کو زمبابوے کے خلاف تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کا آخری میچ شیڈول کے مطابق کھیلا جا رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی اور اے پی کے مطابق سنیچر کو وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ’جمعے کو لاہور میں پاکستان اور زمبابوے کے درمیان کھیلے جانے والے دوسرے ایک روزہ میچ کے دوران سٹیڈیم سے کچھ فاصلے پر ایک خودکش حملہ آور نے روکے جانے پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔‘

انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی، زمبابوے کی ٹیم پاکستان میں

اس مبینہ دھماکے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور چھ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے فوری بعد پولیس حکام نے اسے حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دھماکہ ٹرانسفارمر پھٹنے کے نتیجے میں ہوا۔

اب کرکٹ حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو سیریز کا آخری میچ شیڈول کے مطابق کھیلا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیریز کے لیے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود شائقین کا جوش وخروش بھی غیرمعمولی ہے

کرکٹ بورڈ کے ایک ترجمان کے مطابق:’حادثے سے زمبابوے کے دورے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور دورہ جاری رہے گا۔ کھلاڑی اتوار کو کھیلے جانے والے آخری ایک روزہ میچ کی سکیورٹی انتظامات سے مطمئن ہیں۔‘

خیال رہے کہ سنہ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد ٹیسٹ میچ کھیلنے والی کسی کرکٹ ٹیم کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

دہشت گردوں کے حملے میں سات افراد کی ہلاکت کے بعد جہاں سری لنکن ٹیم اپنا دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس چلی گئی تھی وہیں اس کے بعد دیگر ٹیموں نے بھی پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا۔

چھ سال کے اس عرصے کے دوران پاکستان کو اپنی تمام ہوم سیریز غیرملکی سرزمین پر کھیلنی پڑی تھیں۔

زمبابوے کے دورے کے موقعے پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتطامات کیے گئے ہیں اور میچ کے دوران سٹیڈیم کے اطراف میں ہزاروں پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں جبکہ ٹیموں کو حفاظتی حصار میں ہوٹل سے سٹیڈیم پہنچایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں