’میرے والد سیپ بلاٹر کے خلاف سازش کی گئی‘

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر سیپ بلاٹر کی بیٹی کے مطابق ان کے والد کو’ پس پردہ‘ سے سازش کا نشانہ بنایا گیا۔

سیپ بلاٹر کی بیٹی کورینئی بلاٹر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عیب سب میں ہوتا ہے۔۔۔ لیکن ان کے والد ایسے شخص نہیں جو پیسے لیتے ہیں۔

بدعنوانی کے الزامات میں گھری فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے سیپ بلاٹر کو پانچویں بار تنظیم کا صدر منتخب کیا ہے۔

’معاف کر دیتا ہوں لیکن فراموش نہیں کرتا‘

فیفا نے سیپ بلاٹر کو صدر منتخب کر لیا

’بلاٹر اپنے دفتر میں ہی مرنا چاہتے ہیں‘

بلاٹر کو بدعنوانی کے معاملے میں شامل نہیں کیا گیا تاہم ان پر مستعفی ہونے پر زور ڈالا جا رہا ہے۔

کورینئی بلاٹر نے اپنے والد کے خلاف کسی ممکنہ سازش کے سوال کے جواب میں کہا:’ میں یہ نہیں کہوں گی کہ امریکہ یا برطانیہ سے ہوئی لیکن یقیناً پس پردہ لوگ کام کر رہے ہیں۔میں نہیں جانتی اگر آپ انھیں پوشیدہ طاقتیں کہیں لیکن انھوں نے بے حد کوشش کی اور انھوں نے گذشتہ سال ستمبر اور اکتوبر میں بھی کوشش کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیپ بلاٹر پانچویں مرتبہ فیفا کے صدر منتخب ہوئے ہیں

کورینئی بلاٹر نے ان دعوؤں کو مسترد کیا کہ گذشتہ دنوں رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے ان کے والد کی ساکھ ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

’یہ تمام چیزیں ان کو بدنام کرنے کے لیے ہوئیں تاکہ وہ مستعفی ہو جائیں لیکن میں کہنا چاہتی ہوں کہ اس کے بارے میں آئندہ دو سے تین ہفتے کے بعد کوئئ بھی بات نہیں کرے گا۔‘

کورینئی بلاٹر کے مطابق ان کے والد سیپ بلاٹر معمول کے مطابق کام کریں گے جسیا کہ گذشتہ روز انھوں نے ایگزیکٹو میٹنگ کی صدارت کی اور ہر کوئی ان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

کورینئی بلاٹر نے اس الزام کو مسترد کیا کہ ان کے والد نے پیسے لیے۔

’جتنی بھی رقم انھوں نے کمائی وہ کام کر کے کمائی کیونکہ وہ محنت کرنے والے صدر ہیں۔‘

اس سے پہلے سیپ بلاٹر نے صدر منتخب ہونے کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں یورپی تنظیموں کے افسران کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عالمی تنظیم کے خلاف ’نفرت انگیز‘ مہم قرار دیا تھا۔

سیپ بلاٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ میں فیفا کے اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے بعدگرفتاری کے حوالے سے امریکی تحقیقاتی اداروں کے بیانات سن کر انھیں شدید ’دھچکا‘ پہنچا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلاٹر کو بدعنوانی کے معاملے میں شامل نہیں کیا گیا تاہم ان پر مستعفی ہونے پر زور ڈالا جا رہا ہے

تنظیم کے رہنما کے طور پر ان کی ذات پر ہونے والی تنقید کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر بلاٹر نے کہا کہ ’میں ابھی ابھی پانچویں مرتبہ تنظیم کا صدر منتخب ہوا ہوں۔ اس کا مطلب ہے میں اتنا خراب آدمی نہیں ہوں۔‘

یاد رہے کہ مبینہ بدعنوانی کے الزامات کے منظر عام پر آنے کے بعد فٹبال کی یورپی تنظیم ’یوئیفا‘ کے صدر مچل پلاٹینی نے سیپ بلاٹر پر زور دیا تھا کہ وہ نئے انتخابات سے پہلے تنظیم کی صدارت سے مستعفیٰ ہو جائیں۔

مسٹر بلاٹر کے مخالف امیدوار، اردن کے پرنس علی بن الحسین نے جمعے کو بلاٹر کو دو تہائی اکثریت سے محروم کر کے انھیں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ پر مجبور کر دیا تھا، لیکن پرنس علی دوسرے مرحلے کی ووٹنگ سے پہلے خود ہی مقابلے سے دستبردار ہو گئے تھے۔

بدھ کو امریکی حکام نے فیفا کے چودہ اہلکاروں اور ان کے معاونین کو گرفتار کر لیا تھا اور اگلی ہی صبح سؤٹزرلینڈ کے شہر زیورخ کے ایک بڑے ہوٹل سے سات دیگر افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان تمام لوگوں پر الزام ہے کہ وہ رشوت، تاجروں سے زبردستی رقمیں بٹورنے اور کالے دھن کو سفید کرنے میں ملوث رہے ہیں اور انھوں نے سنہ 1991 کے بعد سے فیفا میں کروڑوں ڈالر کے گھپلے کیے ہیں۔

اسی بارے میں