ہم نے فیفا کو رشوت نہیں دی: جنوبی افریقہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی حکام نے فٹبال کی دنیا میں ہونے والے حالیہ بدعنوانی کے واقعے کی انکوائری کرتے ہوئے فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا ہے

جنوبی افریقہ نے سنہ 2010 کے فٹبال کے عالمی کپ کو جنوبی افریقہ میں منعقد کروانے کے لیے فیفا کو ایک کروڑ ڈالر رشوت دینے کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کی یہ تردید امریکہ کی جانب سے فیفا میں کی جانے والی بدعنوانی کی تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہے۔

جنوبی افریقہ کے کھیلوں کے وزیر فیکیلے امبالولا نے کہا ہے کہ یہ رقم کیریبیئن میں افریقی تارکین وطن میں فٹ بال کو فروغ دینے کے ارادے سے دی گئی تھی اور جائز تھی۔

بلیٹر کے استعفے کے بعد فیفا کا مستقبل کیا؟

امریکی استغاثہ نے گذشتہ ہفتے فٹبال میں مجرمانہ تحقیقات شروع کی تھیں اور اس کے تحت 14 ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

فیفا کے صدر سیپ بلیٹر نے منگل کو کہا تھا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں جبکہ اس سے صرف دو دن قبل انھیں پانچوں بار فیفا کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔

امریکہ کی جانب سے جن 14 افراد پر ریکٹیئرنگ اور غیر قانونی طور پر پیسے کے لین دین کے الزمات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی تھی ان میں سے فیفا کے سات جونیئر اہلکاروں کے علاوہ دو نائب صدور تھے۔

ان 14 ملزمان کےگروپ میں سے سات کو سوئٹزرلینڈ میں گرفتار کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دوسری جانب انٹرپول نے فیفا کے دو سابق اہلکاروں کے خلاف مطلوب افراد کی فہرست جاری کی ہے جن میں جیک وارنر بھی شامل ہیں

امریکی وزارتِ انصاف نے کہا ہے کہ 14 افراد عالمی سطح پر زیرِ تفتیش تھے اور ان پر 24 سال کے عرصے کے دوران 15 کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ رشوت اور کمیشن لینے کا الزام ہے۔

امریکی حکام نے فٹبال کی دنیا میں ہونے والے حالیہ بدعنوانی کے واقعے کی تحقیقات کرتے ہوئے فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ انھیں فیفا کے بعض ایسے عہدیداروں سے تعاون کی امید ہے جنھیں غیر قانونی طور پر پیسے کے لین دین اور ریکٹیئرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور وہ ان کی بنیاد پر سیپ بلیٹر کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔

امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ جنوبی افریقہ نے سنہ 2010 کے فٹبال کے عالمی کپ کی بولی کی حمایت کرنے کے لیے فیفا کے سابق نائب صدر جیک وارنر اور دیگر ارکان کو ایک کروڑ ڈالر کی رشوت دی تھی۔

فیکیلے امبالولا نے بدھ کو پریس کانفرنس میں ان الزامات کی ’قطعی ترید‘ کی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہم امریکہ اور فیفا حکام کی لڑائی کو مسترد کرتے ہیں۔‘

امبالولا کے مطابق جنوبی افریقہ کی حکومت امریکی تفیشں میں تعاون کرے گی۔

دوسری جانب انٹرپول نے فیفا کے دو سابق اہلکاروں کے خلاف مطلوب افراد کی فہرست جاری کی ہے جن میں جیک وارنر بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں