’سیٹھی کو آئی سی سی کا صدر بننے کے لیے عہدے چھوڑنے پڑتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہریار خان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ زمبابوے کے کرکٹروں کو ادائیگی کر کے کرکٹ بورڈ نے دوسری ٹیموں کو بھی راہ دکھا دی ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ نجم سیٹھی کو واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ جس دن وہ آئی سی سی کے صدر بنیں گے اسی دن سے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں کوئی عہدہ نہیں رکھ سکیں گے اور انھیں گورننگ بورڈ کے رکن اور چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی کے عہدے چھوڑنے پڑیں گے اور یہ بات نجم سیٹھی کو بھی اچھی طرح معلوم تھی۔

واضح رہے کہ نجم سیٹھی نے گذشتہ دنوں آئی سی سی کی صدارت سے دستبردار ہو گئے تھے، جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کی جگہ سابق ٹیسٹ کرکٹر ظہیر عباس کو اس عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے۔

صحافی نجم سیٹھی نے آئی سی سی کا صدر بننے سے معذرت کر لی

شہر یار خان نے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ آئی سی سی نے اگلے سال سے کسی سابق ٹیسٹ کرکٹر کو اپنا صدر بنانے کا فیصلہ نجم سیٹھی کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ یہ فیصلہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے اس کے سابق صدر مصطفیٰ کمال کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کے پیش نظر کیا جس کا اطلاق آئندہ سال سے ہونا ہے۔

تاہم اس دوران نجم سیٹھی نے پاکستان کے کسی کرکٹر کو اس عہدے پر فائز دیکھنے کی خواہش کے پیش نظر خود اس عہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

شہر یار خان نے کہا کہ وہ آئی سی سی کے بارباڈوس میں ہونے والے اجلاس کے لیے 12 منٹ دورانیے کی ایک ویڈیو لے کر جا رہے ہیں تاکہ آئی سی سی کے رکن ممالک کو اندازہ ہو سکے کہ پاکستان میں دہشت گردی میں کمی واقع ہو رہی ہے اور زمبابوے کے بعد دیگر ٹیمیں بھی یہاں آ سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نجم سیٹھی کو یکم جولائی کو آئی سی سی کے صدر کا عہدہ سنبھالنا تھا

انھوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ زمبابوے کے کرکٹروں کو ادائیگی کر کے پاکستان کرکٹ بورڈ نے دوسری ٹیموں کو بھی راہ دکھا دی ہے اور وہ بھی اب پاکستان کا دورہ کرنے کے لیے مالی مطالبات کر سکتے ہیں۔

شہر یار خان نے کہا کہ چونکہ چھ سال کے طویل انتظار کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہو رہی تھی لہذٰا پاکستان کرکٹ بورڈ کو کچھ نہ کچھ مالی قربانی دینی تھی لیکن اس کے بدلے پاکستان کو صرف گیٹ منی کی مد میں کروڑوں کی آمدنی ہوئی اور صرف کرکٹ ہی نہیں دیگر پہلوؤں سے پاکستان کا امیج بحال ہوا۔

’اس لحاظ سے اگر زمبابوے کے کرکٹروں کو جو کچھ دیا گیا اس کا دوگنا بھی دیا جاتا تو وہ جائز تھا لیکن آئندہ کسی دوسری ٹیم کو اس طرح ادائیگی نہیں کی جائے گی۔‘

شہر یار خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے کسی آفیشل کو کرکٹ کمنٹری کی اجازت نہیں دیتا اور چیف سلیکٹر ہارون رشید کو حالیہ ٹی 20 ٹورنامنٹ میں مجبوراً کمنٹری کرنی پڑی تھی، لیکن یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی غلطی تھی آئندہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کوئی بھی تنخواہ دار آفیشل براڈکاسٹنگ نہیں کر سکتا۔

اسی بارے میں