پاکستانی سپنر رضا حسن نے دو سالہ پابندی کو چیلنج کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رضا نے اپنے مختصر کریئر میں پاکستان کے لیے دس ٹی 20 اور ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلا ہے

مثبت ڈرگ ٹیسٹ کی وجہ سے دو سال کی پابندی بھگتنے والے پاکستانی لیف آرم سپنر رضا حسن نے اس پابندی کو چینلنج کر دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے گذشتہ ہفتے اس 22 سالہ کرکٹر پر یہ پابندی لگائی تھی تاہم رضا حسن کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے دفاع کا موقع نہیں دیا گیا۔

رضا حسن رواں برس جنوری میں مقامی کرکٹ کے مقابلوں کے دوران لیے گئے ایک ڈرگ ٹیسٹ میں ناکام رہے تھے۔

سنیچر کو انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’میں نے اس پابندی کے خلاف اپیل کر دی ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پابندی غیرقانونی ہے کیونکہ مجھے اپنے دفاع کا موقع نہیں دیا گیا اور پی سی بی کو چاہیے کہ وہ میرا موقف سننے کے لیے ٹربیونل تشکیل دے۔‘

انھوں نے کہا کہ میں کبھی کسی غیرقانونی کام میں ملوث نہیں رہا اور اس پابندی کا مقابلہ کروں گا۔

اے ایف پی کے مطابق پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ نے رضا کی جانب سے کوکین کے استعمال کی خبریں دی تھیں تاہم کرکٹ بورڈ نے پابندی لگاتے ہوئے ممنوعہ مواد کا نام ظاہر نہیں کیا تھا۔

رضا حسن پر عائد پابندی کے تحت وہ کرکٹ بورڈ کی منظوری سے ہونے والے کسی بھی مقابلے، میچ یا کرکٹ سے جڑی کسی سرگرمی میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔

رضا نے اپنے مختصر کریئر میں پاکستان کے لیے دس ٹی 20 اور ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلا ہے۔

وہ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے والے پہلے پاکستانی کرکٹر نہیں جنھیں مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی وجہ سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان سے قبل ٹیسٹ کرکٹرز شعیب اختر، محمد آصف اور عبدالرحمان پر بھی مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی وجہ سے پابندی عائد ہو چکی ہے۔

شعیب اختر اور محمد آصف 2006 میں مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی پاداش میں پابندی کا سامنا کر چکے ہیں۔

شعیب اختر پر دو سال کی اور محمد آصف پر ایک سال کی پابندی لگائی گئی تھی تاہم بعد میں دونوں بولروں کی اپیل پر پابندی ہٹا دی گئی۔

اسی بارے میں