’بھارت کے خلاف ٹیسٹ میچ میں کامیابی کا امکان ففٹی ففٹی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ان کے پاس اچھے سپنر ہیں اور اگر ہمارہے بیٹسمین ان کا سامنا کرنے میں کامیاب رہے تو میں میرے خیال میں میچ دلچسپ ہو گا

بھارت کی کرکٹ ٹیم کے دورۂ بنگلہ دیش کے دوران واحد ٹیسٹ میچ بدھ کو فتح اللہ میں شروع ہو گا۔

اس ٹیسٹ میچ میں بھارتی ٹیم کی قیادت وراٹ کوہلی کر رہے ہیں جبکہ بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے بھارت کے خلاف ٹیسٹ میچ میں پہلی جیت کا عزم ظاہر کیا ہے۔

بھارت پانچ سال بعد بنگلہ دیش میں میزبان ٹیم کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیل رہا ہے۔

اس سے پہلے دونوں ٹیموں کے مابین کھیلے جانے والے سات میچوں میں چھ میں بنگلہ دیش کو شکست ہوئی ہے، جبکہ ایک میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کپتان مشفق الرحیم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بھارتی ٹیم بہتر ہے لیکن ٹیسٹ میچ میں کامیابی کے امکانات ففٹی ففٹی ہیں۔

’ان کے پاس اچھے سپنر ہیں اور اگر ہمارے بیٹسمین ان کا سامنا کرنے میں کامیاب رہے تو میں میرے خیال میں میچ دلچسپ ہو گا۔‘

اس سے پہلے بنگلہ دیش کے دورے کے موقعے پر بھارت نے پہلے ٹیسٹ میچ میں بنگلہ دیش کو 113 رنز جبکہ دوسرے ٹیسٹ میچ میں دس وکٹوں سے شکست دی تھی۔

اس شکست کے بارے میں بات کرتے ہوئے بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے کپتان مشفق الرحیم نے کہا: ’پانچ سال پہلے ہم دونوں ٹیسٹ میچ ہار گئے تھے تاہم اس کے بعد ہم نے بہت سفر طے کیا ہے اور اب ہم میں انفرادی طور پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑی موجود ہیں۔ ہماری کارکردگی میں بہتری آئی ہے، انفرادی سطح پر بھی اور ٹیم کی سطح پر بھی۔‘

بنگلہ دیش نے اس سے پہلے پاکستانی ٹیم کی میزبانی کی تھی جس میں اسے ٹیسٹ سیریز میں شکست ہوئی لیکن اس نے تین میچوں کی ایک روزہ سیریز اور واحد ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پاکستان کو شکست دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارتی کرکٹ ٹیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں مہندر سنگھ دھونی کی ریٹائرمنٹ کے بعد قیادت وراٹ کوہلی نے سنبھالی ہے۔

کوہلی نے 26 برس کی عمر میں بھارتی ٹیم کی کپتانی حاصل کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچپن میں ان کی صرف یہ خواہش تھی کہ ایک دن بھارت کی جانب سے ٹیسٹ میچ کھیلیں۔

بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ میچ پر بات کرتے ہوئے کوہلی نے عندیہ دیا کہ کہ میچ میں پانچ بولروں کو شامل کر سکتے ہیں کیونکہ وکٹ کم از کم پہلے تین دن بلے بازوں کے لیے سازگار رہے گی۔

’میرے خیال میں ٹیم کو پورا موقع دینا چاہیے کہ وہ 20 وکٹیں حاصل کرے اور میں ٹیم میں پانچ بولر اور چھ بیٹسمین کھلانے کا بہت حامی ہوں۔‘

کوہلی نے پانچ بولروں کی موجودگی میں بیٹنگ لائن کے کمزور ہونے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صرف دو سے تین بلے بازوں کو کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے تاکہ سکور 500 رنز تک پہنچ سکے۔

ٹیسٹ میچ کے بعد تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 18 جون کو ہو گا۔

اسی بارے میں