مثبت ڈوپنگ ٹیسٹ: رضا حسن کی اپیل واپس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رضا حسن نے چند روز قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں صفائی کا موقع دیے گئے بغیر ان پر دو سالہ پابندی عائد کی ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے لیفٹ آرم سپنر رضا حسن کی اپیل واپس کردی ہے جو انہوں نے مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی پاداش میں عائد دو سالہ پابندی کے خلاف دائر کی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان آغا اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ رضا حسن کی اپیل مسترد نہیں واپس لوٹا دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رضا حسن نے نے اینٹی ڈوپنگ کوڈ 2012 کے تحت اپنے مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے خلاف اپیل 14 دن کی مدت کے دوران نہیں کی تھی لہٰذا واڈا قوانین کے تحت پاکستان کرکٹ بورڈ تاخیر سے کی گئی ان کی اپیل نہیں سن سکتا۔

انہوں نے کہا کہ رضا حسن چاہیں تو قواعد و ضوابط کے تحت کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ رضا حسن نے چند روز قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں صفائی کا موقع دیے گئے بغیر ان پر دو سالہ پابندی عائد کی ہے۔

رضا حسن کا اس سال جنوری میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے دوران ڈوپ ٹیسٹ لیا گیا تھا جو مثبت ثابت ہوا تھا۔

بائیس سالہ رضا حسن نے ایک ون ڈے انٹرنیشنل اور دس ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

ان سے قبل شعیب اختر ۔ محمد آصف اور عبدالرحمن پر ممنوعہ قوت بخش ادویات کے استعمال پر پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں۔

اسی بارے میں