فیفا کے ریفری جو رکشہ چلاتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AS SATHEESH
Image caption بھارت کے بہترین ریفری کو ابھی اچھی قسمت کا انتظار ہے

’دنیا میں سب سے آسان چیز ہے آٹو رکشہ چلانا. میں باس ہوں کیونکہ میں اپنی مرضی کا مالک ہوں۔‘

اگر یہ الفاظ کسی اور رکشہ ڈرائیور کے ہوتے تو اسے یہ جان کر نظر انداز کیا جا سکتا تھا کہ تین پہیوں کی دنیا میں رہنے والے کسی شخص نے یہ بات کہی ہے۔

لیکن یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جو بھارتی ریاست کیرالہ کے كوٹايم شہر میں رکشہ چلاتا ہے تاکہ وہ ایک فٹ بال میچ کا ریفری بننے کے لیے جا سکے۔

سنتوش کمار ان چھ بھارتی ریفریوں میں سے ہیں ایک جنھیں گذشتہ چار برسوں سے فيفا بین الاقوامی فٹ بال میچ کے ریفری کے طور پر منتخب کر رہی ہے۔

وہ اپنے روزگار کے بارے میں اپنے کیریئر کے سب سے مشکل میچوں میں ریفری بننے کی طرح ہی فکرمند ہیں۔

سنتوش کمار نے چین، ابو ظہبی میں کئی فٹ بال میچوں میں ریفری کے کردار ادا کیا ہے۔ وہ بھارت میں بھی قومی مقابلوں میں ریفری کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔

بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے سنتووش کمار کہتے ہیں: ’میں صرف آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن (اے آئی ايف ایف) سے ملنے والی تنخواہ پر گزارہ نہیں کر سکتا۔ اگر کل میں زخمی ہو گیا تو کیا ہو گا؟ اس لیے مجھے اضافی کمائی کی ضرورت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AS SATHEESH
Image caption فٹ بال سے جب فرصت ملتی ہے تو زیادہ پیسہ کمانے کے لیے وہ رکشہ کی بجائے کار بھی چلاتے ہیں

سنتوش کمار کو اس بات کا احساس ہے کہ وہ 40 سال کے ہو چکے ہیں، لیکن ان تمام لوگوں سے فٹ ہیں، جن کے ساتھ انھوں نے کبھی فٹ بال کھیلا تھا۔

انھیں معلوم ہے کہ ان کے پاس ریفری کی ذمہ داری نبھانے کے لیے پانچ سال ہی باقی ہیں۔

فٹ بال سے جب فرصت ملتی ہے تو زیادہ پیسہ کمانے کے لیے وہ رکشہ کی بجائے کار بھی چلاتے ہیں۔

انھوں نے سنہ 1995 میں 12 ویں کے بعد پڑھائی چھوڑ دی، وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے سوچا مجھے فٹ بال کھیلنے کے لیے نوکری مل جائے گی۔‘

لیکن انھوں نے مقامی ٹیموں کے لیے سنہ 2008 تک کھیلا اور پیسے کمائے۔ انھوں نے انڈر -21 فٹ بال کیمپ میں بھی حصہ لیا لیکن اس وہ منتخب نہیں ہوئے۔

ریفری بننے میں ان کی دلچسپی اس وقت ظاہر ہوئی جب کیرالہ میں میمین میتھیو کپ ٹورنامنٹ کے دوران ریفری کے لئے وہ لائزن افسر بنائے گئے تھے۔

انھوں نے دیکھا کہ ریفری کو کافی عزت ملتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AS SATHEESH
Image caption وہ اپنے روزگار کے بارے میں اپنے کیریئر کے سب سے مشکل میچوں میں ریفری بننے کی طرح ہی فکرمند ہیں

وہ بتاتے ہیں: ’1996 میں جب ایسوسی ایشن نے ریفری کے لیے ایک ٹیسٹ منعقد کیا تو میں نے اس میں حصہ لیا اور میرا نتیجہ اچھا رہا۔ لیکن 1998 میں ایک مقامی ٹیم کے لیے کھیلتے ہوئے میرے دائیں پاؤں میں چوٹ لگ گئی۔ میں دوڑ سکتا ہوں لیکن کھیل نہیں سکتا کیونکہ میں دائیں پیر سے کھیلنے والا کھلاڑی ہوں۔‘

لیکن انھوں نے ضلعی سطح پر لیگ میچوں میں ریفری بننا جاری رکھا۔

سنتوش کمار بتاتے ہیں: ’اس کے بعد میں کلاس ون ریفری بن گیا۔ سال 2004 میں نیشنل ریفری بن گیا۔ سال 2011 میں اےآئی ایف ایف نے فيفا میں میرے نام کی سفارش کی ۔‘

ایک اپارٹمنٹ میں وہ ایک مینیجر کے طور پر کام کرتے تھے اور اسی دوران وہ پارٹ ٹائم کار ڈرائیور اور ایک رکشہ ڈرائیور کا بھی کام کرتے تھے۔

سات سال پہلے انھوں نے ایک آٹو رکشہ خریدا۔

لیکن 14-2013 کے بھارت کے بہترین ریفری کو ابھی اچھی قسمت کا انتظار ہے۔

سنتوش کمار کہتے ہیں: ’چند ماہ پہلے حکومت نے مجھے ملازمت کی پیشکش کی تھی۔ سپورٹس کونسل نے میرے دستاویزات جانچے لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔‘

اسی بارے میں