محمد عامر کو ایک اور موقع دیا جائے: مائیکل ہولڈنگ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ویسٹ انڈیز کے سابق مایہ ناز فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ نے سپاٹ فکسنگ کے جرم میں سزا پانے والے پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر کے بارے میں کہا ہے کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے مرکزی کردار نہیں تھے۔

61 سالہ سابق فاسٹ بولر کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی یہ تاثر نہیں دیا کہ محمد عامر نے سنہ 2010 کے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی ’منصوبہ بندی‘ کی تھی۔

واضح رہے کہ محمد عامر پر محمد آصف اور سلمان بٹ کے ہمراہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے بعد تمام طرح کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ محمد عامر پر عائد پابندی کی مقررہ مدت اس سال ستمبر میں ختم ہو رہی ہے۔

تاہم آئی سی سی کی جانب سے انھیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی جاچکی ہے۔

مائیکل ہولڈنگ نے پاک پیشن ویب سائٹ کو دیےگئے انٹرویو میں کہا کہ ’میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا جو دوسروں کی جان لے لیتے ہیں، مثلاً لاپرواہ ڈرائیونگ، شراب پینے کے بعد ڈرائیونگ، لاپرواہ مشینی حادثات، اس کے باوجود انھیں زندگی میں دوبارہ موقع دیا جاتا ہے۔ جو سزا بھی انھیں دی جاتی ہے، اس کے بعد انھیں دوبارہ زندگی شروع کرنے اور کچھ اچھا کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مائیکل ہولڈنگ کا کہنا تھا کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ پاکستانی مداح محمد عامر کی واپسی کے بارے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے لیکن وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ ان سے زندگی بھر کے لیے قطع تعلق کیوں رہنا چاہیے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’لیکن عامر کی زندگی میں کیوں بہتری نہیں لائی جاسکتی اور اس کو ایک اور موقع دیا جائے؟ اس نے کسی کی جان نہیں لی۔‘

22 سالہ محمد عامر کی ڈومیسٹک کرکٹ میں سنہ 2010 میں پابندی کے بعد اس سال مارچ میں واپسی ہوئی تھی اور انھوں نے اپنے پہلے سپیل میں تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

تاہم مائیکل ہولڈنگ کا کہنا ہے کہ ’ہم نہیں جانتے کہ مستقبل میں ان کے لیے کیا ہے۔ اس بات کا بیشتر انحصار اس پر ہوگا کہ ان کی واپسی کے بعد ان کی ٹیم، مداح اور دنیا بھر میں لوگ انھیں کس طرح قبول کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں