کیچ ضرور چھوٹے لیکن سنگاکارا کی وکٹ مل گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دوسرے دن مصباح الحق نے موسم کے پیش نظر اپنے بولروں کی صلاحیتوں کو پہلے آزمانے کا فیصلہ کیا لیکن قسمت میزبان ٹیم پر مہربان رہی

گال ٹیسٹ کے دوسرے دن پاکستانی ٹیم کو اس بات کا ڈر تھا کہ کمار سنگاکارا کہیں گرج پڑے تو کیا ہوگا کیوں کہ انھیں ڈبل سنچریاں بنانے کی عادت ہو گئی ہے۔

24 کے انفرادی سکور پر یاسر شاہ کی گیند پر اظہر علی کے ڈراپ کیچ نے سنگاکارا کو لمبی اننگز کھیلنے کا پورا پورا موقع فراہم کر دیا تھا۔

وہ تو اچھا ہوا کہ نصف سنچری سکور کرنے کے بعد ہی ان کی قیمتی وکٹ پاکستانی ٹیم کے ہاتھ لگ گئی اور یوں سنگاکارا کو سر ڈان بریڈ مین کی 12 ڈبل سنچریوں کی برابری کے لیے نئی اننگز شروع کرنی پڑے گی۔

اس عالمی ریکارڈ تک پہنچنے کے لیے سنگاکارا کے پاس تین ٹیسٹ میچ ہیں جس کے بعد عظیم سری لنکن بیٹسمین کا بین الاقوامی کریئر اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔

اظہر علی کے ڈراپ کیچ نےگذشتہ سال کا گال ٹیسٹ بھی یاد دلا دیا جب میچ کے چوتھے دن کی پہلی ہی گیند پر عبدالرحمٰن نے سنگاکارا کا102 رنز پر کیچ ڈراپ کیا تھا جس کی پاکستانی ٹیم کو بھاری قیمت ان کی ڈبل سنچری کی صورت میں چکانی پڑی تھی۔

گال ٹیسٹ کے پہلے دن بارش نے ٹاس تک کا موقع نہیں دیا تھا۔ دوسرے دن مصباح الحق نے موسم کے پیش نظر اپنے بولروں کی صلاحیتوں کو پہلے آزمانے کا فیصلہ کیا لیکن قسمت میزبان ٹیم پر مہربان رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنگاکارا کو سر ڈان بریڈ مین کی 12 ڈبل سنچریوں کی برابری کے لیے ایک اور اننگز کا انتظار کرنا پڑے گا

وہاب ریاض نے کرونا رتنے کو ایک رن کے انفرادی سکور پر سلپ میں محمد حفیظ کے ہاتھوں کیچ کرا دیا لیکن امپائر پال رائفل کے نو بال کے اشارے نے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا۔

وہاب ریاض کوشل سلوا کو بھی دو رنز کے انفرادی سکور پر آؤٹ کر دیتے اگر بیک ورڈ پوائنٹ پر یاسر شاہ ان کا کیچ لینے میں کامیاب ہو جاتے۔

کوشل سلوا نےاس موقعے سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور پاکستان کے خلاف آٹھویں ٹیسٹ میں پانچویں نصف سنچری سکور کر ڈالی۔ دوسرے دن کے کھیل ختم ہونے پر وہ 80 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

کوشل سلوا نے پاکستانی بولنگ کے سامنے وارم اپ میچ میں بھی سنچری بنائی تھی لیکن ابھی تک وہ پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سنچری سکور نہیں کر سکے ہیں۔ گذشتہ سال دبئی میں وہ 95 رنز پر آؤٹ ہوئے تھے۔

مصباح الحق اپنے چار رکنی بولنگ اٹیک کو استعمال میں لانے کے بعد پانچویں بولر کے طور پر محمد حفیظ کو بھی لے آئے جنھوں نے تھری مانے کی وکٹ آخری سیشن میں حاصل کر کے سری لنکا کو تیسرا نقصان پہنچایا۔

گال کا میدان کبھی بھی پاکستانی ٹیم کے لیے خوش قسمت نہیں رہا۔ جون سنہ 2000 میں پاکستان نے اسی میدان میں سری لنکا کو ایک اننگز اور 163 رنز سے شکست دی تھی لیکن اس کے بعد کھیلے گئے تینوں ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان نےگذشتہ سال گال میں پہلی اننگز میں 400 رنز بنا کر ٹیسٹ میچ ہارا تھا۔

اسی بارے میں