حکومت مجھے ہٹانا چاہتی ہے: فیصل صالح حیات

فیصل صالح حیات تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’تازہ ترین حکومتی مداخلت کے بارے میں فوری طور پر فیفا کو آگاہ کر دیا ہے‘

پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر فیصل صالح حیات کا کہنا ہے کہ انھیں ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے حکومت سرکاری اختیارات استعمال کررہی ہے لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ فیفا کے نزدیک حکومتی مداخلت قابل قبول نہیں اور ایسی صورت میں وہ پاکستان کی رکنیت معطل بھی کر سکتی ہے۔

فیصل صالح حیات نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انھوں نے تازہ ترین حکومتی مداخلت کے بارے میں فوری طور پر فیفا کو آگاہ کر دیا ہے۔

حکومت نے پہلے ہی پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان ہاکی فیڈریشن میں مداخلت کر رکھی ہے اب وہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کو بھی اپنے کنٹرول میں لینا چاہتی ہے۔ اسے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے معاملے سے سبق سیکھنا چاہیے جب اس نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی منظور شدہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم کرنے کے بجائے متوازی ایسوسی ایشن قائم کر ڈالی تھی اور جب انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے پاکستان کی رکنیت معطل کرنے کی دھمکی دی تو اسے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی منظور شدہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم کرنا پڑگیا۔

فیصل صالح حیات نے کہا کہ حکومت کی پاکستانی فٹبال کے معاملات میں غیر معمولی دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ ان کے بارہ سالہ دور میں پاکستان فٹبال فیڈریشن ایک اہم ادارے کے طور پر سامنے آئی ہے جسے فیفا اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن نے بھی سراہا ہے ۔اس کے علاوہ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ چونکہ وہ خود سیاست داں ہیں اور برسراقتدار جماعت پر تنقید کرتے آئے ہیں لہذا وہ انہیں اس عہدے سے ہٹانے کے لیے سرگرم ہو چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں خواتین کے چھپن فٹبال کلب ہیں

انھوں نے کہا کہ حکومتی مداخلت کا واضح ثبوت کشمالہ طارق کی سرکاری عمارت میں کی گئی پریس کانفرنس تھی۔

انھوں نے کہا کہ فٹبال پر قبضہ کرنے والوں کو یہ تک نہیں پتہ کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن میں کوئی ویمنز ونگ نہیں ہے تو اس کی چیئرپرسن کا کیا سوال؟ اسی طرح پاکستان فٹبال فیڈریشن میں سیکریٹری منتخب نہیں ہوا کرتا۔

انھوں نے کہا کہ فیڈریشن کا صدر اسی وقت منتخب ہوتا ہے جب تمام ارکان اجلاس میں موجود ہوں لہذا چند روز قبل انھیں صدر کے عہدے سے ہٹائے جانے والے اجلاس کی کوئی قانونی اور آئینی حیثیت نہیں ہے۔

فیصل صالح حیات نے کہا کہ فیفا نے پاکستان میں گول پراجیکٹ کے نام سے جتنے بھی منصوبے شروع کیے ہیں ان تمام کی نگرانی فیفا اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے اپنے لوگ خود کرتے ہیں اور وہ منصوبے مکمل کر کے انھیں پاکستان فٹبال فیڈریشن کے حوالے کر دیتے ہیں۔

فیصل صالح حیات نے کہا کہ ان کے بارہ سال دور میں ملک میں فٹبال کی ترقی کے لیے بہت کام ہوا ہے۔آج سال بھر میں سولہ لیگ ہو رہی ہیں۔ فیفا کے آٹھ میں سے چار گول پراجیکٹ مکمل ہوچکے ہیں اور چار جلد مکمل ہونے والے ہیں جن میں آسٹروٹرف لگ رہی ہیں۔ اس وقت ملک بھر میں چھبیس سو رجسٹرڈ کلب اور چھیاسٹھ ہزار رجسٹرڈ کھلاڑی اور آٹھ اے لائسنس کوچز موجود ہیں۔

فیصل صالح حیات نے کہا کہ انھوں نے پہلی بار ملک میں خواتین فٹبال شروع کی اور آج پاکستان میں چھپن خواتین فٹبال کلب ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے انتخابات تیس جون کو ہو رہے ہیں جن میں فیصل صالح حیات اور ظاہر علی شاہ صدر کے عہدے کے لیے امیدوار ہیں۔

اسی بارے میں