فالو آن کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یونس خان نے47 کے انفرادی سکور پر آف سپنر دل روان پریرا کی گیند پر آؤٹ ہوئے

گال ٹیسٹ کے تیسرے دن پاکستانی بولر سری لنکن ٹیم کو تین سو رنز پر محدود کرنے میں کامیاب تو ہوئے لیکن پاکستانی بیٹنگ تمام وقت تگ و دو کرتی نظر آئی ہے۔

پہلا دن مکمل طور پر بارش کی نذر ہوگیا تھا لیکن اس کے باوجود تیسرے دن کے اختتام تک اس میچ کی دلچسپی برقرار ہے۔

پاکستانی بولروں نے سری لنکا کو پہلی اننگز میں تین سو رنز پر آؤٹ کر دیا جو اس کا گال میں پاکستان کے خلاف سب سے کم سکور ہے لیکن سری لنکن بولروں نے بھی بھرپور وار کیا جس میں انھیں پانچ قیمتی وکٹیں مل گئیں۔ پاکستانی ٹیم اب بھی سری لنکا کے اسکور سے 182 رنز پیچھے ہے، جبکہ اسے فالو آن سے بچنے کے لیے مزید 33 رنز درکار ہیں۔

یاد رہے کہ کرکٹ قوانین کے مطابق چار روزہ میں میچ میں فالو آن کا مارجن 200 رنز سے گھٹ کر 150 رنز رہ جاتا ہے۔ اس میچ میں پہلے دن کا کھیل مکمل طور پر بارش کی وجہ سے ضائع ہو گیا تھا اس لیے اب یہ چار روزہ ٹیسٹ بن کر رہ گیا ہے۔

پاکستانی ٹیم اُسی وقت بیک فٹ پر آگئی تھی جب دھمیکا پرساد نے دونوں اوپنروں محمد حفیظ اور احمد شہزاد کو پویلین کی راہ دکھادی۔

محمد حفیظ نے بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں ڈبل سنچری بنائی تھی جس کے بعد ان کا بلا ٹیسٹ میچوں میں پھر خاموش ہے۔

احمد شہزاد ڈسپلن کی خلاف ورزی کی سزا بھگت کر دوبارہ ٹیسٹ ٹیم میں واپس آئے ہیں۔

اظہرعلی ساتویں مرتبہ رنگانا ہیرتھ کا نشانہ بنے۔

35 رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد کپتان مصباح الحق اور یونس خان نے خود کو اسی صورت حال میں پایا جسے دیکھنے کے وہ اب عادی ہوچکے ہیں۔

دونوں اعتماد سے بیٹنگ کررہے تھے کہ یونس خان نے47 کے انفرادی سکور پر آف اسپنر دل روان پریرا کی راؤنڈ دی وکٹ گیند کو باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش میں وکٹ گنوادی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوشل سلوا نے پاکستان کے خلاف پہلی ٹیسٹ سنچری سکور کی

مصباح الحق 20 کے انفرادی سکور پر سلپ میں کمار سنگاکارا کے زبردست کیچ پر حیران رہ گئے۔

96 رنز پر آدھی ٹیم کے آؤٹ ہوجانے سے میچ پر پاکستانی ٹیم کی گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے اور سری لنکن بولر بساط جلد سے جلد لپیٹنے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔ تاہم گذشتہ سال سری لنکا کے خلاف سیریز میں شاندار بیٹنگ کرنے والے وکٹ کیپر سرفراز احمد اور اسد شفیق شراکت قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

یہ دونوں جب تک کریز پر موجود ہیں پاکستانی ٹیم کی ایک اچھے سکور تک پہنچنے کی امیدیں برقرار رہیں گی۔

اس سے قبل سری لنکا کی سات وکٹیں سکور میں 122 رنز کا اضافہ ہی کر پائیں۔

کوشل سلوا نے پاکستان کے خلاف پہلی ٹیسٹ سنچری سکور کی، لیکن پاکستانی بولروں نے اینجیلو میتھیوز، چندی مل اور وتھاناگے کو ہاتھ کھولنے نہیں دیے۔

سپن ٹرائیکا نے سات وکٹوں پر ہاتھ صاف کیا جن میں ذوالفقار بابر کی تین وکٹوں میں سنچری میکر سلوا کی وکٹ بھی شامل تھی۔

اسی بارے میں