گال ٹیسٹ میں لیگ سپن کا سونامی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاسر شاہ نے دن کی پہلی ہی گیند پر نائٹ واچ مین پریرا کو بولڈ کردیا

لیگ سپنر یاسر شاہ کی شاندار بولنگ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو نو سال کے صبرآزما انتظار کے بعد سری لنکا میں پہلی ٹیسٹ کامیابی سے ہمکنار کرنے کا سبب بن گئی۔ گال ٹیسٹ میں پاکستان کی دس وکٹوں کی اس جیت نے گزشتہ سال اسی گال کے میدان میں پاکستان کی نو وکٹوں سے شکست بھی یاد دلادی۔

دونوں ٹیسٹ میچز تقریباً ایک ہی انداز میں کھیلے گئے۔گزشتہ سال پاکستانی ٹیم نے پہلی اننگز میں ساڑھے چار سو رنز کرنے کے باوجود ٹیسٹ میچ آخری دن دوسری اننگز میں نو وکٹیں گنوا کر ہارا تھا۔

اس میچ میں سری لنکا کو جیت کے لیے 99 رنز بنانے تھے۔اس مرتبہ سری لنکا نے آخری دن آٹھ وکٹیں گنواکر پاکستان کو فاتح بننے کا موقع فراہم کردیا ۔

پاکستان کو جیتنے کے لیے ا41 اوورز میں90 رنز کا ہدف ملا جو اس نے اوپنرز محمد حفیظ اور احمد شہزاد کے ذریعے حاصل کرلیا۔چوتھے دن کوشل سلوا اور سنگاکارا کی وکٹیں گرنے کے باوجود میچ پر سری لنکا کی گرفت بہت زیادہ کمزور نہیں پڑی تھی تاوقتیکہ آخری دن کوئی سونامی نہ آجاتا اور یہ سونامی لیگ اسپنر یاسرشاہ لے آئے۔ یاسر شاہ نے دن کی پہلی ہی گیند پر نائٹ واچ مین پریرا کو بولڈ کردیا لیکن اس کے بعد تھری مانے اور کرونا رتنے نے اسکور میں 69 رنز کا اضافہ کرکے پاکستانی بولرز کو کافی انتظار کرایا۔

یہ شراکت وہاب ریاض نے تھری مانے کو 44 کے اسکور پر سلپ میں یونس خان کے ہاتھوں کیچ کراکر ختم کی جن کا یہ کیچ نمبر 108 تھا۔

کپتان میتھیوز یاسر شاہ کی گیند پر شارٹ لیگ پر کیچ قرار دیے گئے لیکن وہ امپائر النگورتھ کے فیصلے اور ناکافی ٹیکنالوجی کا رونا روتے ہوئے میدان سے باہر گئے۔ یاسر شاہ کے ہاتھوں کرونارتنے کی 79 کے اسکور پر اننگز ختم ہونے کے ساتھ ہی سری لنکا کی رہی سہی امید بھی دم توڑگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یاسر شاہ کے ہاتھوں کرونارتنے کی 79 کے اسکور پر اننگز ختم ہونے کے ساتھ ہی سری لنکا کی رہی سہی امید بھی دم توڑگئی

چندی مل نے اپنے سامنے پرساد اور ہیراتھ کو بھی آؤٹ ہوتے دیکھا اور پھر خود بھی یاسر شاہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے۔سری لنکا کی آخری سات وکٹیں اسکور میں صرف 74رنز کا اضافہ کرسکیں۔ یاسر شاہ نے 76 رنز کے عوض سات وکٹیں حاصل کیں جو ان کے ٹیسٹ کریئر کی بہترین بولنگ ہے اور یہ 20سال کے طویل عرصے میں کسی بھی پاکستانی لیگ اسپنرکی بہترین انفرادی کارکردگی بھی ہے۔

سری لنکا کی سرزمین پر یہ سنہ 2002 میں شین وارن کی سات وکٹوں کے بعد کسی بھی لیگ اسپنر کی سب سے بہترین کارکردگی بھی ہے۔شین وارن نے یہ سات وکٹیں پاکستان کے خلاف کولمبو ٹیسٹ میں حاصل کی تھیں۔

اس میچ میں یاسر شاہ نے مجموعی طور پر نو وکٹیں حاصل کیں۔ اس میچ میں سری لنکا کی گرنے والی 20 میں سے 15 وکٹیں سپنرز نے حاصل کیں ۔بچ جانے والی پانچ وکٹیں وہاب ریاض کے حصے میں آئیں۔پاکستانی بولرز میں جنید خان واحد بولر ہیں جو دونوں اننگز میں کامیابی سے محروم رہے۔

پاکستانی ٹیم کی یہ کامیابی اس اعتبار سے قابل ذکر ہے کہ اس ٹیسٹ میچ کا پہلا دن مکمل طور پر بارش کی نذر ہوگیا تھا لیکن چاردن کے کھیل میں اس نے اپنی گرفت مضبوط رکھی حالانکہ پہلی اننگز میں اس پر مشکل آئی تھی لیکن سرفراز احمد اسد شفیق اور ذوالفقاربابر کی شاندار بیٹنگ نے ٹیم دوبارہ صحیح راستے پر ڈال دیا تھا۔

اسی بارے میں