’ہیراتھ کو قابو کر لینا ہی جیت کا سبب بنا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وقاریونس کے مطابق پاکستانی ٹیم کی جیت میں منظم بولنگ نے کلیدی کردار ادا کیا

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقاریونس کا کہنا ہے کہ بلےبازوں کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے رنگانا ہیراتھ کو بڑے اعتماد سے کھیلا، خاص کر سرفراز احمد نے جس اسٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کی اس نے رنگانا ہیراتھ کو دباؤ سے باہر نہیں آنے دیا۔

یاد رہے کہ گال ٹیسٹ میں رنگانا ہیراتھ صرف ایک وکٹ حاصل کر پائے، جبکہ گذشتہ سال گال ہی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں انھوں نے پاکستان کی نو وکٹیں حاصل کر کے سری لنکا کی نو وکٹوں کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

وقاریونس نے کولمبو سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ رنگانا ہیراتھ ورلڈ کلاس بولر ہیں جنھوں نے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دوسری ٹیموں کے خلاف بھی قابل ذکر بولنگ کی ہے، لیکن پہلے ٹیسٹ میں پاکستانی بیٹسمینوں نے ہیراتھ کو جس اعتماد سے کھیلا اس پر انھیں حیرت نہیں ہے کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ پاکستانی بیٹسمین بڑے باصلاحیت ہیں۔

وقاریونس نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی جیت میں منظم بولنگ نے کلیدی کردار ادا کیا اور صرف سپنروں نے ہی نہیں بلکہ وہاب ریاض نے بھی عمدہ بولنگ کی اور اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کیں۔

واضح رہے کہ گال ٹیسٹ میچ میں سپنروں نے 15 وکٹیں حاصل کیں اور بقیہ پانچ وہاب ریاض کے حصے میں آئیں۔

انھوں نے کہا کہ یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر نے ڈسپلن کے ساتھ بولنگ کی ان دونوں نے پاکستان کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف بھی ٹیسٹ میچ جتوائے ہیں ۔یاسر شاہ اس وقت دنیا کے چند بہترین لیگ اسپنروں میں سے ایک ہیں۔

وقار یونس نے کہا کہ پاکستانی ٹیم گذشتہ کچھ عرصے سے ٹیسٹ کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی آ رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ون ڈے کے مقابلے میں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم زیادہ تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور ہر کھلاڑی کو ٹیسٹ میچ میں اپنی ذمہ داری کے بارے اچھی طرح معلوم ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستانی ٹیم نے چند کیچ گرائے لیکن مجموعی طور پر اس نے تینوں شعبوں میں سری لنکا سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

وقاریونس کے خیال میں محمد حفیظ کا بولنگ ایکشن رپورٹ ہوجانا پاکستانی ٹیم کے لیے بڑا دھچکہ ہے کیونکہ ٹیم جیسے ہی سیٹ ہوتی ہے اس طرح کی صورت حال سامنے آجاتی ہے۔

وقار نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ حفیظ اپنا بولنگ ایکشن جلد سے جلد کلیئر کرائیں کیونکہ وہ ٹیم میں پانچویں بولر کی ذمہ داری بخوبی نبھاتے ہیں اور کوشش کریں گے کہ اس کا اثر ٹیم پر نہ پڑے۔

اسی بارے میں