’یونس خان نے کپتانی چھوڑ کر عقلمندی کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اگر وہ کپتانی میں الجھا رہتا تو اس کا کریئر وقت سے پہلے ختم ہونے کا اندیشہ تھا‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین یونس خان کے کریئر پر سابق وکٹ کیپر کپتان راشد لطیف کا گہرا اثر رہا ہے۔

راشد لطیف یونس خان کو اس وقت سے جانتے ہیں جب وہ کلب کرکٹ کھیل رہے تھے۔

اس کے بعد سے راشد نے یونس خان کی قدم قدم پر رہنمائی کی ہے اور آج انہیں یونس خان کے سوویں ٹیسٹ پر ایسی ہی خوشی ہے جیسے وہ خود یہ سنگ میل عبور کررہے ہوں۔

’یونس خان کا ٹیسٹ میچوں کی سنچری مکمل کرنا معمولی بات نہیں ہے خاص کر ان جیسے دماغ کے تیز کرکٹر کے لیے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹنگ اور اپنی کمٹمنٹ سے خود کو ایک مکمل پروفیشنل ثابت کیا ہے ۔‘

راشد لطیف کہتے ہیں کہ یونس خان نے کپتانی چھوڑ کر درست فیصلہ کیا تھا ۔

’یونس خان کا کریئر اس لیے طول پکڑا ہے کیونکہ اس نے کپتانی چھوڑی ۔ اگر وہ کپتانی میں الجھا رہتا تو اس کا کریئر وقت سے پہلے ختم ہونے کا اندیشہ تھا اس نے کپتانی چھوڑ کر عقلمندی کی۔‘

کیا وجہ ہے کہ یونس خان کی شاندار کارکردگی کے باوجود انہیں عظیم بیٹسمینوں میں جگہ نہیں مل سکی ہے؟

راشد لطیف اس کی وجہ مائنڈ سیٹ کو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں ’ہمارے بڑے دلیپ کمار کے پرستار تھے۔ ہماری جنریشن نے امیتابھ کو پسند کیا اور ہماری نوجوان نسل شاہ رخ اور سلمان خان کی شیدائی ہے۔ اسی طرح کرکٹ میں ہم نے برائن لارا، سچن تندولکر، ژاک کیلس اور رکی پونٹنگ جیسے بڑے بیٹسمین دیکھے۔ لیکن ہم آج بھی ویوین رچرڈز اور جاوید میانداد کو یاد رکھتے ہیں لیکن اس سے قطع نظر یونس خان بہت بڑے کرکٹر ہیں جن کا ریکارڈ ہی سب کچھ بتا دیتا ہے۔‘

راشد لطیف کا کہنا ہے کہ انہیں یقین تھا کہ یونس خان پاکستان کی طرف سے سب سےزیادہ سنچریوں اور رنز کا ریکارڈ قائم کرلیں گے۔

’یونس خان اور محمد یوسف کو آئی سی ایل کھیلنے کی پیشکش ہوئی تھی۔ میں نے دونوں سے کہا تھا کہ ان کے پاس پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رنز اور سنچریوں کے ریکارڈ کا موقع ہے اگر وہ یہ ریکارڈ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہوجائیں گے۔ لیکن محمد یوسف نے میری بات نہیں مانی تھی جبکہ یونس خان نے آئی سی ایل کی پیشکش مسترد کردی تھی اور آج وہ انتیس سنچریاں بنانے کے علاوہ جاوید میانداد کے سب سے زیادہ رنز کے ریکارڈ کے قریب آچکے ہیں۔‘

اسی بارے میں