میں نے استعفیٰ نہیں دیا: سیپ بلیٹر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیپ بلیٹر فیفا کے صدر کے لیے دوبارہ انتخاب لڑنے کا سوچ رہے ہیں

سیپ بلیٹر نے کہا ہے کہ انھوں نے فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر کی حیثیت سے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے79 سالہ بلیٹر کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ ان کا 17 برس پر محیط کریئر فیفا میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی سامنے آنے کے بعد ختم ہو گیا ہے۔

تاہم سوئٹرزلینڈ کے بِلک نامی اخبار کے مطابق بلیٹر نے فیفا میوزیم میں ہونے والی ایک پارٹی میں کہا: ’میں نے استعفیٰ نہیں دیا، میں نے خود کو اور اپنے دفتر کو فیفا کی کانگریس کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔‘

سیپ بلیٹر فیفا کے صدر کے لیے دوبارہ انتخاب لڑنے کا سوچ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ فیفا میں سامنے آنے والی مبینہ بدعنوانی کے خلاف دو تحقیقات گذشتہ ہفتے شروع کی گئی تھیں اور اس سے پہلے سیپ بلیٹر کو پانچویں بار فیفا کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔

فیفا کا صدر منتخب ہونے کے چار دن بعد سیپ بلیٹر کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے پاس فیفا کی رکنیت کا مینڈیٹ ہے تاہم انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے پاس پوری دنیا کے فٹبال کا مینڈیٹ نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنا مینڈیٹ کانگریس کے سپرد کر دوں۔‘

سیپ بلیٹر کے مطابق: ’میں فیفا کے صدر کی حیثیت سے اگلے انتخابات کے انعقاد تک اپنی ذمہ داریاں جاری رکھوں گا۔‘

تاہم بلیٹر نے مستعفی یا استعفے کے الفاظ استعمال نہیں کیے۔

دریں اثنا سیپ بلیٹر فیفا میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے خلاف امریکی اور سوئس حکام کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کی وجہ سے کینیڈا میں ہونے والے خواتین کے عالمی کپ کے فائنل دیکھنے نہیں جائیں گے۔

اسی بارے میں