ون ڈے رولز میں تبدیلی کا بولروں کو فائدہ، بیٹنگ پاور پلے ختم

تصویر کے کاپی رائٹ ICC

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچوں میں متعارف کروائی جانے والی تبدیلیاں کا اثر یکم جولائی سے شروع ہو گا۔

اس بات کا اعلان کرکٹ کی عالمی تنظیم (آئی سی سی) نے جمعے کو کیا۔

خبر رساں ادارے ایف ایف پی کے مطابق آئی سی سی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرکٹ قوانین میں تبدیلی کا مقصد آئندہ ماہ پانچ جولائی سے شروع ہونے والی تمام ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران گیند اور بیٹ میں توازن رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

کرکٹ کی عالمی کونسل کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ پانچ جولائی سے کھیلے جانے والے میچوں میں پانچ فیلڈروں کو 41 ویں سے 45 ویں اوور کے دوران 30 گز کے دائرے سے باہر کھڑا ہونے کی اجازت ہو گی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 41 ویں سے 45 ویں اوور کے دوران صرف چار کھلاڑیوں کو 30 گز کے دائرے سے باہر کھڑے ہونے کی اجازت تھی۔

دریں اثنا پانچ جولائی کے بعد کھیلے جانے والے ایک روزہ کرکٹ میچوں کے پہلے دس اووروں کے دوران کیچ پکڑنے والے فیلڈروں کو لازمی طور پر کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی جبکہ 15 ویں اور 40 ویں اوورز کے دوران لیے جانے والے بیٹنگ پاور پلے کی اجازت نہیں ہو گی۔

آئی سی سی کے مطابق ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میچوں کے دوران تمام نو بالز جن میں کسی بولر کا پاؤں کریز سے باہر ہونے والی بال بھی شامل ہے کو بھی فری ہٹ قرار دیا جائے گا۔

آئی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے جمعے کو بارباڈوس میں ہونے والے تنظیم کے سالانہ گورنر باڈی اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا ’ہم نے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے کامیاب انعقاد کے بعد ایک روزہ میچوں کے فارمیٹ کا تفصیلی جائزہ لیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایک روزہ کرکٹ کا فارمیٹ مشہور فارمیٹ تھا اور اس میں کسی بڑی تبدیلی کی ضرورت نہیں تھی تاہم ہم نے اس فارمیٹ کو عوام کے لیے مزید آسان بنانے کے علاوہ گیند اور بیٹ کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے ایسا کیا۔

ڈیوڈ رچرڈسن کے مطابق ’ہم نے کوشش کی ہے کہ ایک روزہ کرکٹ میں جارحانہ اور سنسنی خیز برانڈ جاری رہے جو حالیہ عرصے کےدوران 50 اوورز کی کرکٹ کا خاصہ رہا ہے اور جو ہمیں سنہ 2019 میں انگلینڈ میں کھیلے جانے والے کرکٹ کے عالمی کپ کے مثبت راستے تک لے جائے۔‘

اسی بارے میں