بلےبازوں کی ناکامی لے ڈوبی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کولمبو میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے پانچویں دن سری لنکا نے پاکستان کو سات وکٹوں سے شکست دے کر سیریز ایک ایک سے برابر کر دی ہے

گال میں حاصل کی گئی برتری کولمبو میں ختم ہوگئی۔ سری لنکا نے دوسرا ٹیسٹ جیت کر تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز برابر کر دی۔

میزبان ٹیم کو جیتنے کے لیے 153 رنز کا ہدف ملا تھا جو اس نے تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

گذشتہ رات کی بارش اور گیلی آؤٹ فیلڈ کے سبب آخری دن بھی کھیل وقت پر شروع نہ ہو سکا لیکن سری لنکا کو اصل خطرہ ممکنہ بارش سے تھا جو سیریز برابر کرنے کے امکانات دھو سکتی تھی۔

لیکن کرونارتنے کی نصف سنچری اور کپتان میتھیوز کے ساتھ 72 رنز کی اہم شراکت نے سری لنکن ٹیم کا کام آسان کر دیا۔ میتھیوز 43 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

سری لنکن اننگز میں اس وقت ڈرامائی موڑ آیا جب لگاتار گیندوں پر وتھاناگے اور سنگاکارا کی وکٹیں گر گئیں۔

وتھاناگے کو ذوالفقار بابر نے پویلین کی راہ دکھائی۔ انھیں اوپنر کے طور پربھیجا گیا تھا اور انھوں نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 49 بننے والے رنز میں سے34 رنز اسکور کیے جن میں چار چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔

اس کے بعد یاسر شاہ نے پہلی ہی گیند پر کمار سنگاکارا کی وکٹ حاصل کر ڈالی۔ یہ سنگاکارا کی پاکستان کے خلاف آخری اننگز تھی۔ اس سیریز کی چار اننگز میں وہ صرف ایک نصف سنچری سکور کر سکے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سری لنکا کے دو اہم ترین کھلاڑی سنگاکارا اور رنگانا ہیراتھ دونوں ٹیسٹ میچوں میں ناکام رہے لیکن ان دونوں کو قابو کرنے کے باوجود پاکستانی ٹیم کولمبو ٹیسٹ پر اپنی گرفت نہ رکھ سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سری لنکن اننگز میں اس وقت ڈرامائی موڑ آیا جب لگاتار گیندوں پر وتھاناگے اور سنگاکارا کی وکٹیں گر گئی

پاکستانی ٹیم نے درحقیقت میچ کے پہلے ہی دن اپنی گرفت کھو دی تھی جب وہ پہلی اننگز میں صرف ایک 138 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔

پاکستانی ٹیم کو پہلی اننگز میں 177 رنز کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دوسری اننگزمیں اگر پاکستانی بیٹسمین ذمہ داری سے کھیلتے تو پاکستانی ٹیم کی برتری 153 سے کہیں زیادہ ہو سکتی تھی لیکن اظہر علی کی سنچری کے علاوہ اس اننگز میں کوئی بڑا سکور نہ ہو سکا۔

پاکستانی بیٹسمین پہلی اننگز میں آف سپنر تھارندو کوشل کی بولنگ پر بے بس دکھائی دیے تو دوسری اننگز میں دھمیکا پرساد کی تیز بولنگ نے انھیں پریشان کیے رکھا۔

دھمیکا پرساد نے پہلی اننگز میں تین اور دوسری اننگز میں چار وکٹیں حاصل کیں اور یہی کارکردگی انھیں مین آف دی میچ ایوارڈ دیے جانے کا سبب بنی۔

سری لنکا کے لیے یہ جیت اس لیے بھی اہم ہے کہ کولمبو اوول میں گذشتہ تین لگاتار ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد وہ یہ ٹیسٹ جیتی ہے۔