امریکہ خواتین کے فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل میں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ کی ٹیم کینیڈا کے شہر مونٹريئل میں جرمنی کے خلاف میچ سے قبل

امریکہ نے چوتھی بار خواتین کے فٹبال عالمی کپ مقابلوں کے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔

اس نے سیمی فائنل میں دو بار کی چیمپیئن جرمنی کی ٹیم کو موٹریئل کے اولمپک سٹیڈیم میں صفر کے مقابلے دو گول سے شکست دے کر یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔

فائنل میں اس کا مقابلہ اب جاپان اور انگلینڈ کے مابین ہونے والے مقابلے کی فاتح ٹیم سے ہوگا۔

منگل کو کھیلے گئے میچ میں وقفے تک دونوں ٹیموں کا سکور بغیر کسی گول کے برابر تھا اور دوسرے نصف میں جرمنی کی سٹرائیکر سیلیا سیسک نے برتری کا موقع اس وقت گنوا دیا جب وہ 58 ویں منٹ میں ملنے والی پینلٹی پر گول نہ کرسکیں۔

وہیں دوسری جانب امریکہ کو جب 10 منٹ بعد پینلٹی ملی تو امریکہ کی کپتان کارلی لائڈ نے گول کرکے امریکہ کو سبقت دلا دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ کی کپتان کارلی لائڈ نے پینلٹی پرگول کرکے امریکہ کو سبقت دلائی

جب کھیل کا مقررہ وقت پورا ہونے میں صرف چھ منٹ باقی تھے تو متبادل کھلاڑی کیلی اوہارا نے گول کرکے فائنل میں امریکہ کا داخلہ یقینی بنا دیا۔

خیال رہے کہ یہ میچ 50 ہزار شائقین کے سامنے کھیلا گیا اور امریکہ کی برطانوی کوچ جل ایلس نے جرمنی کے ورلڈ کپ کے خواب کو توڑنے کے لیے پر خطر حکمت عملی اپنائی تھی جو کامیاب رہی۔

امریکہ کی اولمپک چیمپیئن ٹیم جب عالمی کپ مقابلے کے سیمی فائنل میں اتری تو اس کے دفاع کا ریکارڈ زبردست تھا اور اس نے پہلے میچ میں آسٹریلیا کے خلاف ایک گول کھانے کے علاوہ کسی بھی ٹیم کو گول کرنے کا موقع نہیں دیا۔

Image caption برطانوی ٹیم ایک عرصے کے بعد سیمی فائنل میں پہنچی ہے

مضبوط دفاع کی وجہ سے امریکی ٹیم کی گول کیپر ہوپ سولو کو زیادہ کچھ نہیں کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ جب جرمنی کو پینلٹی ملی تو بھی۔

جرمنی نے گول کی جانب 16 شاٹس لگائے جبکہ امریکی ٹیم نے گیارہ۔ جرمنی کا کوئی بھی شاٹ ہدف پر نہیں تھا جبکہ امریکی ٹیم نے پانچ بار اپنے ہدف پر رہی۔

امریکہ کو آٹھ کارنر ملے تو جرمنی کو صرف چار جبکہ فاؤل جرمنی کی جانب سے زیادہ ہوئے اور ان کی ٹیم گیند کو زیادہ دیر تک اپنے پاس رکھنے میں بھی کامیاب رہی۔

اسی بارے میں