’بلےباز ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے تو صورتِ حال مختلف ہوتی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بیشتر مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے مصباح الحق پر ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کے فیصلے پر تنقید کی تھی

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے دوسرے ٹیسٹ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بلےباز ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے تو صورت حال مختلف ہوتی۔

واضح رہے کہ کولمبو ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں صرف 138 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔

بیشتر مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے مصباح الحق پر ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔

مصباح الحق نے پالیکیلے سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا: ’ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم نے پہلے سیشن میں صرف دو وکٹوں پر 73 رنز بنائے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ وکٹ بالکل ٹھیک تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت غلط ہوتا اگر پاکستانی بیٹسمین تیز بولروں سے آؤٹ ہوتے، وہ تو آف سپنروں کی بولنگ پر آؤٹ ہوئے۔ ٹاس جیت کر بیٹنگ کے فیصلے پر اعتراض اس وقت بنتا تھا اگر وکٹ میں بہت زیادہ موومنٹ ہوتی اور بیٹسمین تیز بولروں کے خلاف کھیلنے میں دشواری محسوس کرتے۔‘

انھوں نے کہا کہ یاسر شاہ نے سری لنکا کی پہلی اننگز میں چھ وکٹیں حاصل کیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ میچ کی چوتھی اننگز میں سپنروں کا کردار کتنا موثر ہوتا۔ اگر پاکستانی بلےباز پہلی اننگز میں اچھا سکور کر جاتے تو ایڈوانٹج پاکستان کو حاصل ہوتا۔

مصباح الحق نے کہا کہ گذشتہ چند سیریز سے پاکستانی بلےباز مستقل مزاجی سے رنز بناتے آئے ہیں بدقسمتی سے یہ کافی عرصے کے بعد پہلی بار ہوا کہ کولمبوٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پاکستانی بیٹنگ فلاپ ہوئی اور دوسری اننگز میں بھی اظہرعلی کے علاوہ کوئی بھی دوسرا بیٹسمین سکور نہ کر سکا۔

مصباح الحق نے تسلیم کیا کہ سنگاکارا اور رنگانا ہیراتھ پر پاکستانی ٹیم کی بہت زیادہ توجہ رہی جس کی وجہ سے بقیہ کھلاڑیوں پر جو توجہ رکھنی چاہیے تھی وہ نہ رکھی جا سکی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک نئے آف سپنر نے پانچ وکٹیں حاصل کر کے پورے میچ میں پاکستانی ٹیم کو دباؤ میں مبتلا کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ تیسرے ٹیسٹ میں پاکستانی بیٹسمینوں کو دھمیکا پرساد کو صحیح تکنیک اور منصوبہ بندی کے ساتھ کھیلنا ہوگا اور ہیراتھ ہی نہیں دوسرے کھلاڑیوں پر بھی توجہ رکھنی ہو گی۔

یاد رہے کہ دھمیکا پرساد نے دوسرے ٹیسٹ میں سات وکٹیں حاصل کی تھیں اور وہ مین آف دی میچ رہے تھے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ جمعے سے پالیکیلے میں شروع ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں