’یہ پاکستانی ہاکی کا بدترین دن ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر پاکستانی ٹیم اس کوالیفائنگ راؤنڈ میں پانچویں پوزیشن حاصل کر لیتی تو وہ آئندہ سال ریوڈی جنیرو میں ہونے والے اولمپکس میں جگہ بنا لیتی

پاکستانی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور اپنے دور کے شہرۂ آفاق فارورڈ شہباز احمد نے ورلڈ کپ کے بعد اب اولمپکس سے بھی پاکستانی ہاکی ٹیم کے پہلی بار باہر ہونے کو پاکستانی ہاکی کا بدترین دن قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی ہاکی ٹیم کو بیلجیئم میں ہونے والے اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ میں آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد اتوار کے روز ساتویں پوزیشن کا میچ کھیلنا ہے۔

اگر پاکستانی ٹیم اس کوالیفائنگ راؤنڈ میں پانچویں پوزیشن حاصل کر لیتی تو وہ آئندہ سال برازیل کے شہر ریوڈی جنیرو میں ہونے والے اولمپکس میں جگہ بنا لیتی۔

شہباز احمد نے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ سیاسی اثر و رسوخ کے حامل پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار نے پاکستان کی ہاکی کو اس کے انتہائی پست ترین مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے پاکستانی ہاکی ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت سے محروم ہوئی اور اب وہ اولمپکس سے بھی باہر ہوگئی ہے۔ یہ پاکستانی ہاکی کا سیاہ ترین دن ہے جس پر قوم کبھی بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اختر رسول اور سیکریٹری رانا مجاہد کو معاف نہیں کرے گی کیونکہ وہی قومی کھیل کی بربادی کے اصل ذمہ دار ہیں۔‘

شہباز احمد نے جو سنہ 1994 کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان تھے، کہا کہ وہ یہ بات وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ انھی کھلاڑیوں کی مدد سے پاکستانی ٹیم اولمپکس میں کوالیفائی کرسکتی تھی، لیکن بیلجیئم جانے سے چند روز پہلے ہی کوچنگ سٹاف تبدیل کر دیا گیا۔

شہباز سینیئر نے کہا کہ ’موجودہ فیڈریشن نے سابقہ عہدیداروں قاسم ضیا اور آصف باجوہ کو ابھی تک گلے لگائے رکھا ہے۔ ان تمام لوگوں کا ایجنڈا ہاکی کو بہتر کرنا کبھی بھی نہیں رہا۔‘

انھوں نے کہا کہ فیڈریشن نے حکومت کی جانب سے ملنے والی گرانٹ کو پانی کی طرح بہا دیا۔ 18 اکیڈمیوں کے نام پر اپنے من پسند لوگوں کو نوازا گیا اور ایسے لوگوں کو کوچ رکھا گیا جن کا ہاکی سے دور دور تک تعلق نہ تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں کھیلے گئے عالمی کپ میں ٹیم آخری نمبر پر آئی تو فیڈریشن نے تمام کھلاڑیوں کے اجتماعی استعفے کا ڈراما رچایا تاکہ خود کو بچاسکے۔

شہباز احمد کا کہنا تھا کہ فیڈریشن کے عہدیداران جس طرح مزے لوٹ رہے ہیں اس نے کھلاڑیوں کو سخت مایوس کر دیا ہے اور وہ بھی اب یہ سوچ رہے ہیں کہ ٹیم میں آئیں اور کسی بیرونی لیگ سے معاہدہ کر لیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے اب بھی ہاکی کو بچانے کے لیے قدم نہیں اٹھایا تو پھر ہم قومی کھیل کو بھول جائیں کہ اس میں ہم دوبارہ کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں