یاسر شاہ کا جادو پھر چل گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرونا رتنے نے 14 چوکوں کی مدد سے 130 رنز بنائے

سری لنکا کی ٹیم 13 سال کے طویل عرصے کے بعد پہلی بار کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے کے بغیر ٹیسٹ میچ کھیل رہی ہے۔

پاکستان ٹیم کے کپتان مصباح الحق جو نو سال میں سری لنکا میں پہلی ٹیسٹ سیریز جیتنے والے پاکستانی کپتان بننے کے شدت سے خواہش مند ہیں کے لیے سری لنکا کو ہرانے کا اس سے بہترین موقع کوئی اور ہو نہیں سکتا۔

اگرچہ سنگاکارا اس سیریز کے دونوں ٹیسٹ میں قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے لیکن دنیا کی بڑی سے بڑی بولنگ لائن کو یہ خطرہ ہمیشہ سے رہتا ہے کہ سنگاکارا کسی بھی وقت اس پر بجلی بن کر گرسکتے ہیں۔

سنگاکارا کے بغیر سری لنکا کی ٹیم نے پالیکیلے ٹیسٹ کا پہلا دن آٹھ وکٹیں گنوانے کے بعد 272 پر ختم کیا جس کے لیے وہ دیموتھ کرونا رتنے کی شکرگزار تھی جنھوں نے یاسر شاہ کی انتہائی موثر بولنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی دوسری ٹیسٹ سنچری سکور کی۔

کرونا رتنے نے گذشتہ دونوں ٹیسٹ میچوں میں دو نصف سنچریاں بنائی تھیں۔

پاکستانی ٹیم چار تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔

محمد حفیظ کو بائیو مکینک تجزیے کے لیے چھ جولائی کو چنئی جانا ہے لہذا ان کی جگہ اوپنر شان مسعود ٹیم میں آئے ہیں۔

ان فٹ وہاب ریاض آؤٹ آف فارم جنید خان اور ذوالفقاربابر کی جگہ راحت علی احسان عادل اور عمران خان پر مشتمل پیس اٹیک یہ میچ کھیل رہا ہے۔

سری لنکا نے پانچ سال میں پہلی بار رنگانا ہیراتھ کو ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ میچ میں ڈراپ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاسر شاہ نے تیسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن سری لنکا کے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا

مصباح الحق نے وکٹ دیکھ کر پہلےبولنگ کا فیصلہ کیا تو ابتدا میں ہی راحت علی کو کوشل سلوا کی وکٹ مل گئی لیکن کرونارتنے اور اپل تھرنگا پہلا سیشن گزارگئے۔

دوسرے سیشن میں یاسر شاہ نے بہت ہی عمدہ بولنگ کرتے ہوئے تین اہم وکٹیں حاصل کرڈالیں۔ تھرنگا گگلی پر سلپ میں کیچ ہوئے، تھری مانے اور میتھیوز متبادل فیلڈر بابر اعظم کو کیچ تھماگئے۔

تیسرے سیشن میں پاکستانی ٹیم کے ہاتھ چار وکٹیں لگیں۔ یاسر شاہ نے آٹھ سال بعد دوبارہ ٹیم میں واپس آنے والے جیہان مبارک کو آؤٹ کرکے اننگز میں اپنی چوتھی کامیابی حاصل کی۔

پارٹ ٹائم بولر اظہرعلی نے لگاتار گیندوں پر سنچری میکر کرونا رتنے اور دھمیکا پرساد کو آؤٹ کرکے توازن پاکستان کی طرف کردیا۔

پاکستانی ٹیم کو نئی گیند سے اس وقت کامیابی ملی جب راحت علی نے چندی مل کو ایل بی ڈبلیو کردیا، امپائر پال رائفل نے انھیں ناٹ آؤٹ قرار دیا تھا لیکن ریویو پر فیصلہ پاکستانی ٹیم کے حق میں گیا۔

مصباح الحق کا یہ بحیثیت کپتان مسلسل 24واں ٹیسٹ میچ ہے اور اس طرح انھوں نے عبدالحفیظ کاردار کا مسلسل 23 ٹیسٹ میچوں میں قیادت کا پاکستانی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

اسی بارے میں