2016 ریو اولمپکس کی مشعل کی نقاب کشائی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برازیل کا شہر ریو ڈی جنیرو پہلا جنوبی امریکی شہر ہے جہاں اولمپکس منعقد کیا جا رہا ہے

برازیل کی صدر جیلما روسیف نے سنہ 2016 میں ریو ڈی جنیرو میں ہونے والے اولمپکس مشعل کی رونمائی کر دی ہے۔

اس موقع پر انھوں نے کہا کہ اس کھیل کے انعقاد سے ملک کو ’عزت و وقار‘ حاصل ہوگا۔

خیال رہے کہ گذشتہ برسوں کے دوران معاشی بحران کے نتیجے میں روسیف کی مقبولیت میں کمی آئی تھی۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ اس چیلنج کے لیے ان کا ملک کھڑا ہوگا اور ایک محفوظ اور کامیاب اولمپکس کے انعقاد میں تعاون کرے گا۔

برازیل کی صدر جیلما روسیف نے بتایا کہ 12 ہزار افراد کو اولمپکس کی مشعل کو تقریبا 300 شہروں سے لے کر گزرنے کے لیے منتخب کیا جائے گا۔

دارالحکومت براسیلیا میں ایک تقریب میں صدر جیلما روسیف نے کہا: ’اولمپکس گیمز کے افتتاح کو اب صرف 399 دن بچے ہیں اور پانچ اگست کو سارا عالم ہمیں دیکھے گا، اولمپکس کی مشعل کو جلتے ہوئے دیھکے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اولمپکس تیاریوں پر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں

خیال رہے کہ اولمپکس مشعل کی ریلے مارچ میں برازیل کے دارالحکومت براسیلیا سے شروع ہوگی اور اس کا اختتام ریو کے میراکینا سٹیڈیم میں اگست میں اولمپکس کے افتتاح پر ہوگا۔

آئندہ چند ماہ کے دوران اولمپکس کی منتظمہ کمیٹی اور سپانسرز مشعل برداروں کا انتخاب کریں گے۔

ہر مشعل بردار 300 میٹر تک مشعل لے کر دوڑے گا۔ یہ مشعل براسیلیا سے چلے گی اور ملک کی 26 ریاستوں سے 90 سے 100 دنوں میں گزرے گی۔

صدر روسیف نے کہا ہے کہ سکیورٹی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہو گي اور وہ اولمپکس کے لیے گذشتہ سال برازیل میں ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ کے مداحوں کو پھر سے آنے کی دعوت دیں گی۔

انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے اراکین نے گیمز کے متعلق کام میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Image caption گوانابارا خلیج میں پانیوں میں آلودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے

تشویش کا باعث گوانابارا خلیج کے پانیوں میں موجود آلودگی بھی ہے جہاں کشتی رانی اور ونڈ سرفنگ کے مقابلے ہوں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ اتھلیٹس کے خدشات کو سمجھتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اولمپکس مقابلوں کے درمیان اس سے ان کی صحت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔

صدر روسیف نے کہا: ’ہم پر اعتماد ہیں کہ ہم تمام چیلنجز کا مقابلہ کر لیں گے۔ اور ہم تاریخی اولمپکس پیش کریں گے۔‘

خیال رہے کہ ریو پہلا جنوبی امریکی شہر ہے جہاں اولمپکس منعقد کیا جائے گا۔

اسی بارے میں