کارڈف میں آسٹریلوی بلے بازوں کی پراعتماد بلے بازی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آسٹریلوی اوپنر کرس روجرز پانچ رنز کی کمی سے پانچویں ٹیسٹ سنچری مکمل نہ کر سکے

کارڈف میں انگلینڈ کے خلاف ایشز ٹیسٹ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کھیل کے اختتام پر آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 264 رنز بنا لیے۔

جمعرات کی شام جب کھیل ختم ہوا تو کریز پر شین واٹسن اور نیتھن لیون موجود تھے اور آسٹریلیا کو انگلینڈ کی پہلی اننگز کی برتری ختم کرنے کے لیے اب بھی مزید 166 رنز درکار ہیں۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

کھیل کے دوسرے دن آؤٹ ہونے والے پہلے آسٹریلوی بلے باز ڈیوڈ وارنر تھے جو 17 رنز بنانے کے بعد جیمز اینڈرسن کی گیند پر کیچ ہوئے۔

ان کی جگہ آنے والے سٹیون سمتھ 33 رنز بنانے کے بعد معین علی کی گیند پر الیسٹر کک کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

دوسرے آسٹریلوی اوپنر کرس روجرز پانچ رنز کی کمی سے پانچویں ٹیسٹ سنچری مکمل نہ کر سکے اور وڈز کی گیند پر وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔ انھوں نے پہلے وارنر کے ساتھ مل کر 52 رنز اور پھر کلارک کے ساتھ 51 رنز کی شراکت قائم کی۔

معین علی نے اپنی ہی گیند پر مائیکل کلارک کو کیچ آؤٹ کر کے انگلش ٹیم کو چوتھی کامیابی دلوائی تو مہمان ٹیم کا سکور 207 رنز تھا۔ کلارک 38 رنز بنا سکے۔

ایڈم ووگز آؤٹ ہونے والے پانچویں آسٹریلوی بلے باز تھے جو 31 رنز بنانے کے بعد بین سٹوکس کی اس اننگز میں پہلی وکٹ بنے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption معین علی نے 77 رنز کی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو 430 رنز کے مجموعے تک پہنچے میں مدد دی

اس سے قبل انگلش ٹیم دوسرے دن ابتدائی سیشن میں اپنی پہلی اننگز میں 430 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

دوسرے دن انگلینڈ کی جانب سے معین علی اور سٹوارٹ براڈ نے سات وکٹوں کے نقصان پر 343 رنز سے اننگز دوبارہ شروع کی تو اس کی بقیہ تین وکٹیں سکور میں87 رنز کے اضافے کے بعد گریں۔

معین علی نے 77 رنز کی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم اس اچھے مجموعے تک پہنچے میں مدد دی۔

انھوں نے براڈ کے ساتھ مل کر آٹھویں وکٹ کے لیے 52 رنز کی شراکت قائم کی جو خود 18 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

آسٹریلیا کی جانب سے پہلی اننگز میں مچل سٹارک پانچ وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر ہے جبکہ ہیزل وڈ نے تین اور سپنر لیون نے دو وکٹیں لیں۔

انگلینڈ نے اس میچ میں ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا مگر اس کا آغاز اچھا نہیں تھا۔ صرف 43 رنز کے مجموعی سکور پر ہی انگلینڈ کے تین کھلاڑی پویلیئن لوٹ گئے تھے۔

تاہم بعد میں جو روٹ کی سنچری اورگیری بیلنس اور بین سٹوکس کی نصف سنچریوں کی بدولت انگلینڈ کی پوزیشن مستحکم ہوئی تھی۔

اسی بارے میں