پاکستانی باکسر وسیم حالات سے دلبرداشتہ

Image caption محمد وسیم نے گذشتہ سال کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا

پاکستان کے سب سے تجربہ کار باکسر محمد وسیم نے ٹریننگ سہولتوں کی عدم دستیابی کے سبب ایشیئن باکسنگ چیمپئن شپ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایشین باکسنگ چیمپئن شپ آئندہ ماہ بینکاک میں ہو رہی ہے جسے ورلڈ باکسنگ چیمپئن شپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کا درجہ بھی حاصل ہے۔

محمد وسیم نے کوئٹہ سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بین الاقوامی مقابلے کے لیے ٹریننگ کی جو سہولتیں درکار ہوتی ہیں وہ انہیں نہیں مل سکی ہیں لہذٰا ایشیئن چیمپئن شپ میں ان کی شرکت کا کوئی فائدہ نہیں جہاں تمام باکسرز کئی کئی ماہ کی سخت ٹریننگ کے بعد شرکت کریں گے۔

محمد وسیم کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ کراچی میں شدید گرمی کی وجہ سے تربیتی کیمپ روک دیا گیا ہے۔

اب ایشیئن ایونٹ کی تیاری کے لیے بالکل وقت نہیں بچا ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس صورتحال میں پاکستان کا کوئی بھی باکسر ورلڈ چیمپئن شپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکے گا۔

محمد وسیم نے گذشتہ سال کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا جبکہ گذشتہ سال ہی ایشیئن گیمز میں وہ کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن اس کے بعد سے انہیں کسی بھی بین الاقوامی مقابلے میں حصہ لینے کا موقع نہیں مل سکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال ایشیئن گیمز کے بعد سے وہ کسی بھی انٹرنیشنل ایونٹ میں حصہ نہیں لے سکے ہیں جس کی وجہ سے ان کی عالمی رینکنگ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور اب وہ تیسرے سے 13ویں نمبر پر آگئے ہیں۔

محمد وسیم نے کہا کہ گذشتہ سال کامن ویلتھ گیمز اور ایشین گیمز میں بھی انہیں ٹریننگ کی سہولتیں نہیں مل سکی تھیں اور انہوں نے اپنے ذاتی کوچ کے ساتھ ٹریننگ کی تھی۔

محمد وسیم نے کہا کہ 2012 میں انہیں ورلڈ باکسنگ سیریز میں حصہ لینے کی دعوت ملی تھی جس میں شرکت کی صورت میں ان کا لندن اولمپکس میں کوالیفائی کرنا یقینی تھا لیکن اس وقت کی فیڈریشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے مبینہ طور پر ان کا دعوت نامہ اور ضروری کاغذات غائب کر دیے تھے۔

محمد وسیم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کہ وہ پروفیشنل باکسنگ میں شمولیت اختیار کر لیں۔

اسی بارے میں