بدعنوانی کے الزامات، فیفا عہدیدار امریکہ کے حوالے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سوئس محکمہ انصاف کے مطابق بدھ کو تین پولیس اہلکاروں کے حصار میں انھیں نیو یارک لے جایا گیا ہے

سوئس حکام کا کہنا ہے کہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے سوئٹزرلینڈ میں حراست میں لیے جانے والے ایک عہدے دار کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

یہ عہدے دار 27 مئی کو سوئٹزرلینڈ سے بدعنوانی کے الزامات کے تحت حراست میں لیے جانے فٹبال کے سات عہدے داروں میں سےایک ہیں تاہم ان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

سوئس محکمہ انصاف کے مطابق بدھ کو تین پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں انھیں نیو یارک لے جایا گیا ہے۔

اس شخص کا نام تو ظاہر نہیں کیا گیا ہے لیکن گذشتہ رپورٹس کے مطابق سیمین آئس لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک افسر جیفری ویب امریکی حوالگی کی درخواست کے خلاف اپنے حق سے دستبردار ہوگئے تھے۔

جیفری ویب سینٹرل اینڈ نارتھ امریکن فٹبال فیڈریشن کے سابق صدر رہ چکے ہیں اور ان پر مارکیٹنگ کے حقوق بیچنے کے لیے لاکھوں ڈالر بطور رشوت لینے کے الزامات ہیں۔

بی بی سی کے کھیلوں کے نامہ نگار رچرڈ کون وے کا کہنا ہے کہ امریکی قوانین کے مطابق مدعی پر جس ضلع میں مقدمہ دائر کیا گیا ہو وہاں پہنچتے ہی ان کا ’بنا غیر ضروری تاخیر‘ کے جج کے سامنے پیش ہونا لازمی ہے۔

جیسا کہ مدعی بدھ کو زیورخ سے جا چکے ہیں لہذٰا ان کی عدالت میں حاضری جلد متوقع ہے۔

حراست میں لیے جانے والے سات عہدے داروں میں سے چھ کو امریکہ کو حوالگی کے خلاف مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی محکمۂ انصاف کی درخواست پر زیورخ کے ایک ہوٹل میں پولیس چھاپے کے بعد فیفا کے 14 سابق اور موجودہ اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا تھا اور ان پر بدعنوانی کے سنگین مقدمات قائم کیے تھے۔

اس کے علاوہ مئی میں سوئس استغاثہ کی جانب سے بھی الگ سے سنہ 2018 اور سنہ 2022 کے عالمی کپ مقابلوں سے متعلق ’نامعلوم افراد کے خلاف مجرمانہ بدانتظامی اور منی لانڈرنگ‘ کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

محکمہ انصاف کے مطابق بدعنوانی کی منصوبہ بندی امریکہ میں کی گئی تھی اور رقوم کی منتقلی کے لیے بھی امریکی بینکوں کا استعمال کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں