’کم عمر افریقی فٹبالرز کی غیر قانونی طور پر ایشیا منتقلی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’یہ ایک ایسی اکیڈمی تھی جس کا کوئی کوچ اور ڈاکٹر نہیں تھا۔ ایلکس کارمو ہی کوچ، بزنس مینجر یہاں تک کہ سب کچھ تھے، یہ سب کچھ مکمل طور پر بے معنی تھا‘

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ کم عمر افریقی فٹبالرز کو غیر قانونی طور پر ایشیا بھیجا جا رہا ہے اور ان سے زبردستی معاہدے پر دستخط کروائے جاتے ہیں۔

بی بی سی کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فروری میں 23 کم عمر فٹبالرز کو مغربی افریقہ سے ایک غیر رجسٹرڈ فٹبال اکیڈمی میں درآمد کیا گیا جن میں سے ابھی بھی چھ فٹبالرز فٹبال کلب چمپاسک یونائیٹڈ میں موجود ہیں۔

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے قوانین کے مطابق 18 سال کے کم عمر کے فٹبالرز کی غیر ملکی کلب یا اکیڈمی میں ٹرانسفر کی اجازت نہیں ہے۔

دوسری جانب لاؤس کے جنوبی شہر پاکسے میں واقع کلب چمپاسک یونائیٹڈ نے فیفا قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے کی تردید کی ہے۔

فیفا کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ فٹبال کی عالمی تنظیم نے کم عمر فٹبالرز کے مفادات کی حفاظت اور اس حوالے سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کے لیے متعدد رکن انجمنوں سے رابطہ کیا ہے۔

بی بی سی کو ملنے والی معلومات کے مطابق کچھ عرصہ قبل قائم کیا جانے والا فٹبال کلب چمپاسک یونائیٹڈ مستقبل میں ان کھلاڑیوں کو فروخت کر کے منافع حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

فٹبال کلب چمپاسک یونائیٹڈ نے فیفا کے قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے رواں سیزن کے دوران 14 اور 15 سال کے کم عمر غیر ملکی فٹبالرز کو میدان میں اتارا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’30 کھلاڑیوں کے ساتھ ایک کمرے میں سونا بہت برا تجربہ تھا کیونکہ 30 افراد کو ایک کمرے میں سلایا نہیں جا سکتا‘

لائبیریا سے تعلق رکھنے والے ایک 14 سال کے فٹبالر کیسیلے کمارا جنھوں نے لاؤس لیگ کے ایک میچ میں گول کیا نے بتایا کہ انھیں سینیئر ٹیم کے ساتھ میچ کھیلنے سے قبل کلب کے ساتھ چھ سالہ معاہدہ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

کیسیلے کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کے مطابق انھیں تنخواہ اور رہائش دی جانی تھی تاہم ان کا کہنا ہے کہ انھیں کبھی بھی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا بلکہ انھیں فٹبال کلب کے فرش پر سونا پڑا۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ سفر کرنے والے دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا گیا۔

کیسیلے جو اب لائبیریا کی ٹاپ لیگ کی جانب سے کھیلتے ہیں نے بی بی سی کو بتایا ’30 کھلاڑیوں کے ساتھ ایک کمرے میں سونا بہت برا تجربہ تھا کیونکہ 30 افراد کو ایک کمرے میں سلایا نہیں جا سکتا۔‘

وہ تمام کھلاڑی جنھوں نے ’آئی ڈی ایس ای اے چمپاسک ایشیا افریقن فٹبال اکیڈمی‘ میں شمولیت اختیار کی ان کو اُس وقت کے چمپاسک یونائیٹڈ کے کپتان ایلکس کارمو نے دعوت دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

واضح رہے کہ نوجوان فٹبالر ایسی دعوت کو خوشی سے قبول کرتے ہیں کیونکہ لائبیریا کی اپنی فٹبال اکیڈمی نہیں ہے۔

لائبیریا کے صحافی اور سپورٹس پروموٹر بیڈل جنھوں نے فروری میں لاؤس جانے والے گروپ کی سربراہی کی تھی کا کہنا تھا ’یہ ایک فرضی اکیڈمی تھی جسے کبھی بھی قانونی طور پر قائم نہیں کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے بتایا ’یہ ایک ایسی اکیڈمی تھی جس کا کوئی کوچ اور ڈاکٹر نہیں تھا۔ ایلکس کارمو ہی کوچ، بزنس مینجر یہاں تک کہ سب کچھ تھے، یہ سب کچھ مکمل طور پر بے معنی تھا۔‘

فیفا اور کھلاڑیوں کی بین الاقوامی تنظیم ’ایف آئی ایف پرو‘ کی جانب سے ابتدائی دباؤ کے بعد چمپاسک یونائیٹڈ نے تین ماہ پہلے 17 کم عمر کھلاڑیوں کو چھوڑ دیا۔ تاہم چھ کم عمر کھلاڑیوں نے وہیں رہنے کا فیصلہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’ایف آئی ایف پرو‘ کا کہنا ہے کہ تمام کھلاڑیوں نے ایلکس کارمو کی جانب سے مہیا کیے جانے والے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جو خود کو چمپاسک میں ’افریقہ کے تمام کھلاڑیوں کا مینیجر‘ کہلاتے ہیں۔

ایلکس کارموکا کہنا ہے کہ تمام کھلاڑیوں کو تین وقت کا کھانا دیا جاتا ہے اور انھیں ہر مہینے تنخوا دی جاتی ہے۔

چمپاسک یونائیٹڈ کے صدر فون ساونے نے بی بی سی کو بتایا ’ہم کم عمر کھلاڑیوں کو پروفیشنل معاہدے نہیں دیتے بلکہ صرف ایک معاہدہ دیتے ہیں جس میں انھیں صرف بونس دیا جاتا ہے۔‘

فون ساونے اور ایلکس کارمو نے ان اکیڈمیوں میں کم عمر فٹبالرز کی موجودگی کی تردید نہیں کی لیکن کارمو نے دعویٰ کیا کہ کیا کہ وہاں گنی سے تعلق رکھنے والا ایک 16 سالہ لڑکا ہے۔

بی بی سی سمجھتی ہے کہ چمپاسک میں لائیبریا سے تعلق رکھنے والے پانچ کم عمر فٹبالرز ہیں۔

لائبیریا کے صحافی اور سپورٹس پروموٹر بیڈل کے مطابق چمپاسک میں فٹبال کے آٹھ سینئیر کھلاڑیوں (چھ کا تعلق لائیبریا، ایک کا گھانا اور ایک کا سیئیرا لیؤن سے ہے‘ سمیت تمام کھلاڑی ’شرمناک اور پریشان کن‘ حالت میں رہ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’ایف آئی ایف پرو‘ کا کہنا ہے کہ تمام کھلاڑیوں نے ایلکس کارمو کی جانب سے مہیا کیے جانے والے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جو خود کو چمپاسک میں ’افریقہ کے تمام کھلاڑیوں کا مینیجر‘ کہلاتے ہیں

ایلکس کارمو جو کہتے ہیں کہ انھوں نے کیسیلے کامرہ کو پیسے دیے یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ 14 میں سے نو افریقن کھلاڑیوں کے پاس ورک پرمٹس نہیں تھے تاہم ان کے پاس لاؤس میں رہائش کے لیے درست کاغذات تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ لاؤس میں کوئی بھی غیر قانونی طور پر رہائش پذیر نہیں تھا، سب قانونی طور پر رہائش پذیر تھے۔

ان کے مطابق لاؤس پہنچنے کے بعد چمپاسک کلب کے پاس تمام کھلاڑیوں کے پاسپورٹ تھے اور کھلاڑی سٹیڈیم کو شاذو نازر ہی چھوڑتے تھے جہاں انھیں دن میں دو بار ٹریننگ دی جاتی تھی۔

پاسکے میں موجود ایک 17 سالہ فٹبالر کی ماں بیلا طاپے نے بتایا کہ ’میں اپنے بیٹے کو لائبیریا سے اس وقت تک واپس نہیں آنے دوں گی جب تک وہ اپنے خوابوں کو پورا نہیں کر لیتا۔‘

لائیبریا واپس آنے والے چند فٹبالرز نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اچھا کھانا نہیں دیا جاتا تھا اور انھیں شاذو نادر تنخواہ دی جاتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں کلب کی جانب سے بیمار ہونے کی صورت میں بھی میڈیکل کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی تھی۔

ایک کھلاڑی نے چمپاسک یونائیٹڈ میں کھلاڑیوں کی موجودگی کو ’نوکر کے کام‘ سے تشبیہ دی۔

فٹبال کے کھلاڑیوں کی بین الاقوامی تنظیم ایف آئی ایف پرو کے ایک اہلکار سٹیفن نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ صورتِ حال بہت سنجیدہ ہے۔

ایف آئی ایف پرو نے ایک بیان میں فیفا سے لاؤس فٹبال فیڈریشن کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم کلچر فٹ سالیڈیر کے اندازے کے مطابق ہر سال تقربیاً 15 ہزار کم عمر فٹبالرز مغربی افریقہ سے باہر جاتے ہیں جن میں سے متعدد غیر قانونی ہوتے ہیں۔