یہ پاکستانی ٹیم کی سہل پسندی تھی یا سری لنکن ٹیم کا غصہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوشل پریرا نے اپنی دوسری ون ڈے سنچری اسی انداز میں کھیلتے ہوئے سکور کی جو کسی زمانے میں سنتھ جے سوریا سے منسوب تھا

سیریز کی جیت اور چیمپیئنز ٹرافی کے لیے کوالیفائی کرنے کے بعد یہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سہل پسندی ہے یا پھر سری لنکن ٹیم کا غصہ جس نے اسے آخری ون ڈے میں 165 رنز کی جیت سے ہمکنار کردیا۔

یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں سری لنکا کی پاکستان کے خلاف رنز کے اعتبار سے دوسری بڑی جیت ہے۔

سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے چار وکٹوں پر 368 رنز بنالیے تو سب کو یہ بات بھی یاد آگئی کہ سری لنکا میں کوئی بھی ٹیم 300 کا ہدف عبور کرکے میچ نہیں جیت پائی ہے۔

پاکستانی ٹیم بھی اس روایت کو توڑنے میں کامیاب نہ ہوسکی اور پوری ٹیم 38ویں اوور میں صرف 203 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

ایسا دکھائی دیا کہ جیسے پاکستانی بیٹسمین یہ میچ خانہ پری کے لیے کھیل رہے ہوں۔ان کی طرف سے کوئی بھی ایسی قابل ذکر اننگز اور پارٹنرشپ نظرنہیں آئی جس سے یہ میچ دلچسپ بن سکتا۔

سری لنکا کے سکور میں کوشل پریرا کی شاندار سنچری قابل ذکر تو تھی ساتھ میں تلکارتنے دلشن، اینجیلو میتھیوز اور ملندا سری وردنا کی نصف سنچریاں بھی کسی طور پیچھے نہ تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کپتان میتھیوز نے سیریز کی شکست کا غصہ پاکستانی بولرز پر خوب اتارا

کوشل پریرا نے اپنی دوسری ون ڈے سنچری اسی انداز میں کھیلتے ہوئے سکور کی جو کسی زمانے میں سنتھ جے سوریا سے منسوب تھا۔انھوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنے ایک ہزار رنز بھی مکمل کیے۔

انھوں نے محمد عرفان کے پہلے اوور میں خاموش ابتدا کی تھی لیکن پھر سونامی ہر بولر کو بہا کر لے گیا۔

پریرا نے دلشن کے ساتھ پہلی وکٹ کی شراکت میں 164 رنز کا اضافہ کیا۔

دلشن نے 62 رنز کی اننگز کھیلنے کے ساتھ ساتھ ون ڈے انٹرنیشنل میں دس ہزار رنز مکمل کرنے والے چوتھے سری لنکن بھی بن گئے۔

دونوں اوپنرز رن آؤٹ ہوئے۔

سری لنکن ٹیم نے 90 رنز کے اضافے پر چار وکٹیں گنوائیں تو اس وقت پاکستانی بولرز سے امید ہوچلی تھی کہ وہ میزبان ٹیم کو بڑے سکور سے روک سکتے ہیں لیکن کپتان میتھیوز نے سیریز کی شکست کا غصہ پاکستانی بولرز پر خوب اتارا۔

میتھیوز نے صرف 40 گیندوں پر دو چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے آؤٹ ہوئے بغیر 70 رنز سکور کیے اور ملندا سری وردنا کے ساتھ پانچویں وکٹ کی ناقابل شکست شراکت میں 114 رنز کا اضافہ کر ڈالا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احمد شہزاد سیریز میں پہلی بار کھیلنے والے سینا نائیکے کے پہلے ہی اوور میں اسٹمپڈ ہوگئے

سری وردنا نے صرف 26 گیندوں پرتین چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 52 رنز بنائے جو ان کی پہلی ون ڈے نصف سنچری ہے۔

راحت علی واحد بولر تھے جنھیں وکٹ ملی لیکن وہ دیگر تین بولرز عرفان انورعلی اور یاسر شاہ کے ساتھ 70 سے زائد رنز دینے کے خطاوار تھے۔

پاکستانی ٹیم کو وہ آغاز نہ مل سکا جو ایک بڑے سکور کے تعاقب میں ضروری ہوا کرتا ہے۔

احمد شہزاد سیریز میں پہلی بار کھیلنے والے سینا نائیکے کے پہلے ہی اوور میں اسٹمپڈ ہوگئے۔

کپتان اظہرعلی اپنے ہم منصب کے ہاتھوں رن آؤٹ ہوئے۔

محمد حفیظ ون ڈے انٹرنیشنل میں پانچ ہزار رنز مکمل کرنے کے بعد اینجیلو میتھیوز کی ون ڈے میں سوویں وکٹ بن گئے۔

سرفراز احمد تھرڈ مین سے ڈائریکٹ تھرو پر رن آؤٹ ہوئے اور جب شعیب ملک کی وکٹ بھی گرگئی تو صرف اس سوال کی اہمیت رہ گئی تھی کہ پاکستانی ٹیم کی شکست کا مارجن کتنے رنز کا ہوگا۔

اسی بارے میں