ڈبلیو ڈبلیو ای ہال آف فیم کے فاتح ریسلر روڈی پائپر انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اپنے کريئر کے دوران انھوں نے 30 سے زیادہ خطابات حاصل کیے جن میں ڈبلیو ڈبلیو ای ہال آف فیم کا خطاب بھی شامل تھا

سابق پیشہ ور پہلوان راؤڈی روڈی پائپر کا 61 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔ وہ کلٹ یعنی مردوں والا گھاگھرا پہننے کے لیے معروف تھے۔

کینیڈا کے سیسکیشیوان میں پیدا ہونے والے پائپر کا اصل نام روڈرک ٹومبس تھا اور وہ سنہ 1980 کی دہائی کے وسط کے عالمی پہلوانی کے میدان کے نمایاں پہلوان تھے۔

اپنے کريئر کے دوران انھوں نے 30 سے زیادہ ٹائٹل جیتے۔ جن میں ڈبلیو ڈبلیو ای ہال آف فیم کا خطاب بھی تھا جو انھیں سنہ 2005 میں دیا گیا تھا۔

ان کی موت ریسلر ڈسٹی رھوڈس کی موت کے ایک ماہ بعد ہوئی ہے۔ ڈسٹی کی موت 69 سال کی عمر میں ہوئی تھی اور انھیں بھی ہال آف فیم ملا تھا۔

پائپر کی موت کے اسباب ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔ وہ سنہ 2006 میں ہاجکن کے لمفوما یعنی ایک قسم کے کینسر سے کامیابی کے ساتھ لڑے تھے۔

ریسلنگ کے چیئرمین ونس میکمیہون نے کہا: ’روڈی پائپر ڈبلیو ڈبلیو کی تاریخ کے سب سے پرلطف، متنازع اور زبردست پرفارمنس کرنے والے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption انھیں ہلک ہوگن کے حریف کے طور پر جانا جاتا تھا

13 بار عالمی چیمپیئن رہنے والے پال ٹرپل ایچ لیوسک نے ٹوئٹ کیا کہ ’پائپر ایک لیجنڈ اور آئیکون تھے۔‘

وہ ہلک ہوگن کے حریف کے طور پر معروف تھے اور دونوں کئی بار ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے۔ ہوگن اور ان ساتھی نے پائپر اور ان کے ساتھی کو میڈیسن سکوائر گارڈن میں مارچ سنہ 1985 میں ہونے والے پہلے ریسل مینیا میں شکست دی تھی۔

اپنے کریئر کے آغاز میں وہ ایک ولن کے طور پر جانے جاتے تھے اور انھوں نے اپنے ایک حریف کے سرپر ناریل پھوڑ دی تھی۔

لیکن اس کے بعد انھیں فلم ’دے لیو‘ کے لیے پزیرائی بھی ملی جو کہ 1988 میں آئی تھی۔

اس فلم کے ڈائرکٹر جان کارپنٹر نے کہا کہ وہ ’اپنی صلاحیتوں سے کم شمار کیے جانے والے اداکار تھے لیکن ایک شاندار انٹرٹینر تھے اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں نے اپنا ایک قریبی دوست کھو دیا ہے۔‘

جان سینا اور سٹیو آسٹین نے بھی ٹویٹ کے ذریعے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔

اسی بارے میں