یومیہ اجرت پر شوق حاوی آ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انور علی نے پہلی بار شہ سرخیوں میں اس وقت جگہ بنائی جب انھوں نے سنہ 2006 کے انڈر 19 ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت کی پانچ وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کو فتح دلوائی تھی

پاکستان کے شہر کراچی کی ایک گارمنٹس فیکٹری میں جرابوں پر استری کرنے پر مامور ایک نوجوان کو کرکٹ کا شوق انڈر 19 کے زونل ٹرائلز میں لے گیا۔

نوجوان کو یہ معلوم تھا کہ کرکٹ کھیلنے کی صورت میں وہ 150 روپے یومیہ اجرت سے محروم ہو جائے گا تاہم وہ اپنے شوق سے بھی محروم نہیں ہونا چاہتا تھا۔

اتفاق سے اس نوجوان کو ایسے ہمدردوں کا ساتھ میسر آ گیا جنھوں نے اس کی کرکٹ ختم نہیں ہونے دی اور آج وہ ٹی 20 انٹرنیشنل میں پاکستان کی سب سے یادگار جیت کے مرکزی کردار کے طور پر دنیا کے سامنے ہے۔

انورعلی کے چار چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے صرف 17 گیندوں پر بنائے گئے 46 رنز نے سری لنکا کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی ایک وکٹ کی ڈرامائی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انورعلی کہتے ہیں جو سوچا تھا سب کچھ اسی کے مطابق ہوا۔

’میں جس وقت بیٹنگ کے لیے گیا تو صورت حال ظاہر ہے بہت مشکل تھی۔ میرے ساتھ عماد وسیم تھے۔ ہم نے یہی سوچا کہ ایک اوور میں ایک باؤنڈری ضروری ہے لیکن اگر اس دوران کسی ایک اوور میں زیادہ رنز بن جاتے ہیں تو یہ بہت ہی اچھا ہوگا، تاہم لستھ مالنگا کا اوور ہمارے لیے بہت ہی اچھا ثابت ہو گیا اور گیند بلے پر خوب آئی۔‘

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ انور علی نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے پاکستان کو ہاتھ سے نکلتا ہوا میچ جتوایا ہے۔

سنہ 2013 میں جنوبی افریقہ کے خلاف کیپ ٹاؤن میں اپنے اولین ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی انھوں نے ناقابل شکست 43 رنز بنانے کے بعد یاک کیلس اور ڈیوڈ ملر کی وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کی 23 رنز کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

انور علی کہتے ہیں کہ ان کی عمدہ کارکردگی کی ایک بڑی وجہ ان کی مثبت سوچ ہے۔

’میں ہمیشہ یہی کوشش کرتا ہوں کہ سو فیصد کارکردگی دکھاؤں اور مجھ میں جتنی بھی صلاحیت ہے اس کا کھل کر مظاہرہ کروں۔ نتیجہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے لیکن نتیجہ اپنے حق میں کرنے کے لیے محنت کرنا میرے ہاتھ میں ہے۔‘

انور علی کی کرکٹ میں زون چھ کے اعظم خان اور ظفراحمد کا عمل دخل بہت نمایاں رہا ہے۔

یہ اعظم خان ہی تھے جنھوں نے انور علی کو پہلی بار پاکستان کرکٹ کلب کی نیٹ پریکٹس میں دیکھا اور زونل ٹرائلز میں آنے کے لیے کہا جس پر انورعلی نے کہا کہ اگر وہ ٹرائلز میں آئے تو انھیں فیکٹری سے یومیہ اجرت نہیں ملے گی۔ اس پر اعظم خان نے کہا کہ یہ پیسے وہ انھیں دیں گے، ساتھ ہی انھوں نے کراچی کے سلیکٹر ظفر احمد کو اس نوجوان کی بولنگ دیکھنے کے لیے بھی کہا۔

انور علی ٹرائلز میں آئے اور سب کو متاثر کیا۔ اعظم خان کے کہنے پر ظفراحمد نے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی ٹیم میں انھیں 4600 روپے پر ملازمت بھی دلوادی۔

انور علی آج بھی وہ وقت نہیں بھولے ہیں۔

’مجھے گزرا ہوا وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب اعظم بھائی اور ظفر بھائی نے میری قدم قدم پر رہنمائی کی، جبکہ ندیم عمر اور طارق ہارون نے بھی ہروقت میری حوصلہ افزائی کی۔ میں محنت پر یقین رکھتا ہوں ۔انسان کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔‘

انور علی نے پہلی بار شہ سرخیوں میں اس وقت جگہ بنائی جب انھوں نے سنہ 2006 کے انڈر 19 ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت کی پانچ وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کو فتح دلوائی۔

انور علی کے ہاتھوں آؤٹ ہونے والوں میں روہت شرما، پجارا اور رویندرا جدیجہ بھی شامل تھے، اور یہ میچ اسی پریما داسا سٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا جہاں انور علی نے پاکستان کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کامیابی سے ہمکنار کیا۔

اس انڈر 19 ٹیم کے کپتان وکٹ کیپر سرفراز احمد تھے، ان کے علاوہ عماد وسیم بھی اس ٹیم کا حصہ تھے۔ آج یہ دونوں کھلاڑی بھی پاکستان کی سینئیر ٹیم کا حصہ ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ شعیب ملک، محمد رضوان اور انور علی نے پاکستانی ٹیم کی فیلڈنگ کے معیار کو بلند کر دیا ہے۔

انور علی کہتے ہیں وہ فیلڈنگ کرتے ہوئے بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔

’فیلڈنگ اسی وقت اچھی ہوتی ہے جب آپ فٹ ہوں اور میں فٹنس کا خیال رکھتا ہوں، اسی لیے مجھے فیلڈنگ میں بہت مزا آتا ہے۔ فیلڈنگ کھیل کا اہم شعبہ ہے اور اس دورے میں کوچ وقار یونس اور دیگر سٹاف نے کھلاڑیوں کے ساتھ بہت محنت کی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔‘

انور علی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ وہ اپنی بولنگ سے زیادہ اپنی بیٹنگ پر توجہ دیتے ہیں۔

’مجھے ٹیم میں آل راؤنڈر سمجھا جاتا ہے اور میں اپنی بولنگ پر بھی بہت محنت کرتا ہوں اور اس دورے میں میری بولنگ کی کارکردگی بھی اچھی رہی ہے اور جہاں بھی ٹیم کو ضرورت پڑی میں نے وکٹ حاصل کی۔ میں اپنی بولنگ میں مزید بہتری لانا چاہتا ہوں۔‘

اسی بارے میں