ایشز 2015: کیا ہوم ایڈوانٹیج بہت اہم ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ 14 سالوں میں کھیلی جانے والی سات ایشز سیریز میں سے نصف سے زائد میزبان ٹیم نے کامیابی حاصل کی ہے

حالیہ ایشز سیریز میں انگلینڈ کی فتح کی خاص بات یہ ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم صرف 18 ماہ پہلے آسٹریلیا کے ہاتھوں پانچ صفر سے شکست سے دوچار ہوئی تھی، اس لیے موجودہ ایشز سیریز کی جیت کو انگلینڈ کا بڑا اہم کم بیک قرار دیا جا رہا ہے۔

19 ویں صدی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انگلینڈ نے اپنی سرزمین پر مسلسل چار ایشز سیریز میں کامیابی حاصل کی ہے۔

گذشتہ 14 سالوں میں کھیلی جانے والی سات ایشز سیریز میں سے نصف سے زائد میں میزبان ٹیم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایشز، جسے کرکٹ کی دنیا میں سب سے کانٹے کا مقابلہ کہا جاتا ہے، غیردلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ کے ماہر اینڈریو سائمن کے مطابق سنہ 2002 سے پہلے تک 117 ایشز ٹیسٹ میچوں میں میزبان ٹیم کامیاب رہی، 98 میچوں میں مہمان ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔ ان میچوں میں ہار جیت کا تناسب 1.19 رہا۔

سنہ 2002 کے بعد سے 25 ایشز ٹیسٹ میچوں میں میزبان ٹیم کامیابی رہی جبکہ سات میں مہمان ٹیم نے فتح حاصل کی اور یوں ہار جیت کا تناسب 3.57 رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ 2002 کے بعد سے 25 ایشز ٹیسٹ میچوں میں میزبان ٹیم کامیابی رہی جبکہ سات میں مہمان ٹیم نے فتح حاصل کی اور یوں ہار جیت کا تناسب 3.57 رہا

انگلینڈ کے سابق بولرگریم سوان کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں بنائی جانے وکٹیں سلو ہوتی ہیں جس کی وجہ سے بیٹسمین فاسٹ باؤنسی وکٹوں کے سامنے ایکسپوز نہیں ہوتے لیکن جب وہ آسٹریلیا جاتے ہیں تو وہ باؤنسی وکٹوں پر تیز بالروں کا سامنا نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب آپ انگلینڈ آتے ہیں اور وہاں پر گیند سوئنگ ہوتی ہے یہاں تک کہ کاؤنٹی کھیلنے والے مہمان ٹیم کے بیٹسمینوں کو بھی ٹیسٹ میچوں میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ بیٹسمینوں ہوا میں لہرانے والی گیند کو پسند نہیں کرتے کیونکہ انھیں اسے کھیلنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

انگلینڈ میں جاری حالیہ ایشز سیریز کے دوران آسٹریلوی کھلاڑیوں نے جارحانہ کھیل پیش کیا جبکہ ایجبیسٹن اور ٹرینٹ بریج میں کھیلے جانے والے میچ کے حالات بالکل مختلف اپروچ کے متقاضی تھے۔

آسٹریلیا کی ٹیم اس سے پہلے سنہ 2013 میں بھارت کے خلاف سپن کے لیے سازگار حالات میں چار صفر اور سنہ 2014 میں متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے خلاف مردہ وکٹوں پر تین صفر سے سیریز ہار چکی ہے اور ان دونوں سیریز میں آسٹریلوی ٹیم اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہی کہ وہاں کیا حکمتِ عملی اپنائی جائے؟۔

انگلینڈ نے گذشتہ 13 ٹیسٹ پرتھ کی سخت اور باؤنسی ٹریکس پر کھیلے اور اس میں سے انگلینڈ نے صرف ایک جیتا اور نو ٹیسٹ ہارے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو جیمز سدر لینڈ نے ٹرینٹ بریج ٹیسٹ کے بعد میلبرن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بیرون ملک جا کر کرکٹ کھیلنا آسان نہیں ہوتا لیکن یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہمیں بہتر کرنا ہو گی۔ ہم کرکٹ کی دنیا کی سب سے بہترین ٹیم بننا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہمیں بیرونِ ملک بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔‘

سنہ 1990 سے 2000 کی دہائی کے دوران کھیلی جانے والی ایشز سیریز میں صرف 12 فیصد سیریز وائٹ واش ہوئیں جبکہ 1980 کے عشرے میں یہ تناسب سات فیصد رہا۔

اسی بارے میں