اولمپکس کی طرف توجہ، دوسروں کا نقصان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پنکج اڈوانی پاکستان میں ہونے والے سنوکر مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں

بھارتی سنوکر کھلاڑی پنکج اڈوانی بھارت میں اولمپک کھیلوں پر بہت زیادہ توجہ دیے جانے پر خوش نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں ان کھیلوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے جو اولمپکس کا حصہ نہیں ہیں۔

پنکج اڈوانی نے کراچی میں ہونے والی عالمی 6 ریڈبال سنوکر چیمپئن شپ جیت کر اپنے عالمی اعزاز کا کامیابی سے دفاع کیا ہے۔

پنکج اڈوانی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایشیائی ممالک، خاص کر بھارت اور پاکستان میں اولمپکس کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے حالانکہ اولمپکس ایک ایسا ایونٹ ہے جو ہر چار سال بعد آتا ہے۔ ’تو کیا چار سال میں ایک یا دو میڈلز جیتنے والے کھلاڑی کا موازنہ کسی ایسے کھلاڑی سے کرنا انصاف پر مبنی ہے جو ایک کے بعد ایک ورلڈ ایشین اور دوسری چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کرتا رہتاہے؟‘

پنکج اڈوانی نے کہا کہ ان کے نزدیک اولمپکس کے ایک یا دو میڈلز سے زیادہ اہمیت مستقل مزاجی کی ہے۔

پنکج اڈوانی کہتے ہیں کہ بھارت میں اولمپکس کی طرف ضرورت سے زیادہ توجہ ہونے کے سبب حکومت پیسہ بھی انہی کھیلوں کو زیادہ دیتی ہے جو اولمپکس کا حصہ ہیں جس کی وجہ سے وہ کھیل جو اولمپکس میں شامل نہیں ہیں نقصان اٹھارہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’حکومت کی یہ سوچ تبدیل ہونی چاہیے اور یہ امتیازی سلوک ختم ہونا چاہیے کیونکہ وہ بھی اتنی ہی محنت کررہے ہیں جتنے دوسرے کھلاڑی۔‘

پنکج اڈوانی کو بلیئرڈز اور سنوکر کی عالمی چیمپیئن شپ جیتنے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور انھوں نے دنیا میں بلیئرڈز اور سنوکر کے سب سے زیادہ ٹائٹلز جیت رکھے ہیں۔

پنکج اڈوانی کا کہنا ہے کہ 30 سال کی عمر میں اتنے سارے ٹائٹلز جیتنے کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں اپنے کھیل کو مزید بہتر کرنا ہے۔ وہ ہر ٹورنامنٹ جیتنا چاہتے ہیں لیکن ظاہر ہے ایسا ممکن نہیں ہے، اور وہ نتیجے سے زیادہ اپنے کھیل میں بہتری کے بارے میں سوچتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آج انھوں نے جو کچھ حاصل کر رکھا ہے وہ کافی نہیں ہے وہ مزید دس پندرہ سال سال کھیلتے ہوئے کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

پنکج اڈوانی کا کہنا ہے کہ اگر وہ سنوکر اور بلیئرڈز دونوں کھیل نہ کھیل رہے ہوتے تو اکتاہٹ کا شکار ہو جاتے۔ دونوں کھیلوں نے ان کی دلچسپی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ انھوں نے دو سال انگلینڈ میں پروفیشنل سنوکر بھی کھیلی لیکن تنہائی کا شکار ہوگئے اور انہیں اسے چھوڑ کر وطن واپس آنا پڑا۔

پنکج اڈوانی اس بات سے پریشان نہیں کہ بھارت میں کرکٹروں کو زیادہ لوگ پہچانتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر کھلاڑی اپنے ملک کا سفیر ہے اور انھیں اس وقت بہت خوشی ہوتی ہے کہ جب کوئی آ کر یہ کہے کہ آپ نے اپنے کھیل سے بھارت کا نام بلند کیا ہے لیکن اگر کوئی نہ بھی کہے تو انھیں افسوس نہیں ہوتا کیونکہ وہ کھلاڑی ہیں اور ان کا کام کھیلنا ہے۔