آئی اے اے ایف نے ’ممنوعہ ادویات کی تحقیقات کو نہیں روکا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تاہم آئی اے اے ایف کا کہنا ہے کہ’انھوں نے کبھی اس آرٹیکل کی اشاعت کو نہیں روکا‘

ایتھلیٹکس کی گورننگ باڈی نے اس تحقیق کو عوام کے سامنے لانے سے روکنے کے برطانوی اخبار کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سرفہرست ایتھلیٹس میں سے ایک تہائی نے ممنوعہ ادویات کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

برطانوی اخبار ’دی سنڈے ٹائمز‘ کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ایتھلیٹکس فیڈریشن یعنی ’آئی اے اے ایف‘ نے سنہ 2011 میں ہوئی ڈیاگو ورلڈ چیمپئن شپ کے دوران کیے گئے سروے کو دبایا ہے۔

تاہم آئی اے اے ایف کا کہنا ہے کہ’انھوں نے کبھی اس آرٹیکل کی اشاعت کو نہیں روکا۔‘

انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ایتھلیٹکس فیڈریشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ کوئی نئی خبر نہیں ہے اور اس سے پہلے بھی 2013 میں جرمن ٹی وی پر آ چکی ہے۔‘

آئی اے اے ایف کا اس تحقیق میں کوئی کردار نہیں کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ یہ ’سماجی بنیادوں پر کیے جانے والا سروے ہے‘ جسے ممنوعہ ادویات کے روک تھام کے عالمی ادارے ’واڈا‘ اور محققوں کی ایک ٹیم نے جنوبی کوریا میں ڈائے گو کے ایتھلیٹکس ولیج میں کیا۔

اس مکمل تحقیق کی افشا ہونے والی کاپی دی سنڈے ٹائمز اور جرمن ٹی وی کے براڈکاسٹر اے آر ڈی/ ڈبلیو آر ڈی نے دیکھی ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق اس سروے کا نتیجہ یہ ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران مختلف مقابلوں میں حصہ لینے والے 1800 کھلاڑیوں میں 29 فیصد سے 34 فیصد تک کھلاڑیوں نے ممنوعہ ادوایات کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

آئی اے اے ایف کو محققوں کے گروپ کی جانب سے ’نتائج کی تشریح‘ پر سنجیدہ تحفظات ہیں اور وہ اس بارے میں انھیں آگاہ بھی کر چکی ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

واڈا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’واڈا نے 2011 میں ڈائے گو ورلڈ چیمپئن شپ کے دوران اس پراجیکٹ کے لیے آئی اے اے ایف کے ساتھ معاہدے کی خواہش ظاہر کی تھی۔‘

’ان کی رضامندی کے بعد ہی محققین کو ایتھلیٹس کے قریب جانے کی اجازت دی گئی تھی۔اور کسی بھی قسم کی اشاعت آئی اے اے ایف کی منظوری کے ساتھ مشروط تھی۔ اس پراجیکٹ کی اشاعت کی منظوری آئی اے اے ایف نے نہیں دی تھی۔‘

اسی بارے میں