سپین میں سات افراد بُل فائٹنگ کا شکار ہوگئے

تصویر کے کاپی رائٹ Alvaro Barrientos l AP
Image caption کم دنوں میں بیل کے شکار ہونے والے افراد کی یہ غیر معمولی تعداد ہے

سپین میں رواں سال موسمِ گرم میں بُل فائٹنگ کے تہواروں کے دوران سات افراد بیلوں کے حملوں میں زخمی ہونے کے بعد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

بل فائٹنگ کا خاتمہ

یہ تہوار جولائی کے آغاز میں شروع ہوا۔ زخمی ہونے والوں میں سے چار کی ہلاکت گذشتہ ہفتے ہوئی۔

تھوڑے ہی عرصے میں بیل کے شکار ہونے والے افراد کی یہ غیر معمولی تعداد ہے۔

بتایا گیا ہے کہ بیل اپنے لیے بنائے جانے والے رنگ سے باہر گلیوں میں نکل گیا تھا۔

زخمیوں میں 36 سالہ کونسلر پینافل بھی شامل ہیں جو میڈرڈ کے شمال میں ویلا ڈولڈ میں رہتے ہیں۔

ہلاک شدگان میں 18 سالہ نوجوان بھی شامل تھا جس کا معدہ زخمی ہوا تھا۔

تہوار میں دیگر ہلاکتیں ویلینسیا، مرتھیا، تولیڈو، کسٹلیون اور علیکانٹی میں ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images
Image caption سنہ 2013 میں منظور ہونے والے ملکی قانون میں ’بل فائٹنگ‘ کا دفاع کیا گیا تھا

ایک نئی ویب سائٹ ایل دیاریو کے مطابق گذشتہ سال سپین بھر میں بُل’ فائٹرز‘ نے 7200 بیلوں اور بچھڑوں کو ہلاک کیا تھا۔

ملک میں ہر سال 2000 کے قریب بیلوں کے مقابلے ہوتے ہیں تاہم اب ان کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔

اگرچہ اس تہوار کو بہت سے لوگ وحشیانہ عمل بھی قرار دیتے ہیں تاہم ملک کے وزیراعظم سمیت بہت سے لوگ اب بھی اسے پسند کرتے ہیں۔

سنہ 2013 میں منظور ہونے والے ملکی قانون میں ’ بُل فائٹنگ‘ کا دفاع کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ یہ ہماری قومی ثقافت کا حصہ ہے اور ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے محفوظ کرے اور اس کی ترویج کرے۔

سپین میں معاشیات کے استاد جون میڈینا کے مطابق بُل فائٹنگ سے سنہ 2013 میں 20 کروڑ پاؤنڈ تک آمدن ہوئی۔

اسی بارے میں