قتلِ خطا کے مجرم پسٹوریئس کی قبل ازوقت رہائی روک دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پسٹوریئس کی قبل ازوقت رہائی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں: قانونی ذرائع

جنوبی افریقہ میں وزیرِ برائے انصاف مائیکل میسوٹہ نے آسکر پسٹوریئس کو جیل سے قبل ازوقت گھر جانے سے روک دیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں جنوبی افریقہ کے ایتھلیٹ آسکر پسٹوریئس کو اپنی گرل فرینڈ کو غلطی سے قتل کرنے کے جرم میں پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

جنوبی افریقہ کے وزیرِ برائے انصاف نے بتایا کہ قیدیوں کی جلد رہائی سے متعلق پے رول بورڈ کی جانب سے دس ماہ کی قید کے بعد پسٹوریئس کی رہائی کا فیصلہ قبل ازوقت ہے اور بغیر کسی قانون کے کیا گیا ہے۔

قانونی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے اب بورڈ کی جانب سے پسٹوریئس کی قبل ازوقت رہائی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

پسٹوریئس کو آئندہ جمعے کو جیل سے گھر میں نظر بند کیا جانا تھا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اپنی سزا کا بقیہ عرصہ دارالحکومت پریٹوریہ میں اپنے ایک انکل کے تین منزلہ گھر میں گزاریں گے۔

جنوبی افریقہ کے قانون کے مطابق پسٹوریئس کو ’اصلاحی نگرانی‘ کے تحت جلد رہائی مل سکتی ہے۔

ان کے ایک عزیز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرخبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ اس خبر پر حیران اور نا امید ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پسٹوریئس نےسنہ 2013 میں ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اپنی گرل فرینڈ ریوا سٹین کیمپ کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا

وزیرِ برائے انصاف مائیکل ماسوٹہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بورڈ کی جانب سے آسکر پسٹوریئس کو گھر میں نظر بند رکھنے کا فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ پانچ سال قید کی سزا کا چھٹا حصہ 10 ماہ پر مشتمل ہوتا ہے تاہم جب یہ فیصلہ ہوا تو اس وقت پسٹوریئس نے چھ ماہ قید کاٹی تھی۔

خیال رہے کہ جب کوئی قیدی اپنی سزا کا چھٹا حصہ کاٹ لیتا ہے تو متعلقہ پے رول بورڈ اس کے کیس کا جائزہ لیتا ہے۔

پسٹوريئس کے ہاتھوں سنہ 2013 میں ویلنٹائن ڈے کے موقع پر قتل ہونے والی ریوا سٹین کیمپ کی 32 سالگرہ کل ہوگی جسے ان کے اہلِ خانہ ایک چھوٹی سی تقریب میں منائیں گے۔

ان کی سالگرہ پورٹ ایلیزبتھ میں ان کے آبائی علاقے میں سمندر میں پھول پھینک کر منائی جائے گی۔

خیال رہے کہ پسٹوریئس کی 10 ماہ سے کچھ دن قبل رہائی کے خلاف وزارتِ انصاف کو جنوبی افریقہ کی پروگریسیو وومن موومنٹ کی جانب سے ایک درخواست بھجوائی گئی تھی۔

درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ایتھلیٹ کی قبل ازوقت رہائی شرمناک اور مقتول کی بے عزتی کے مترادف ہے۔

یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ شاید یہ فیصلہ سیاسی دباؤ کے تحت کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں