پاک بھارت کرکٹ کا امکان نہ ہونے کے برابر: شہریار خان

Image caption شہریارخان نے بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر کے حالیہ بیانات کو مایوس کن قرار دیا

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے تسلیم کیا ہے کہ پاک بھارت مذاکرات کی منسوخی کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ سیریز کے امکانات بہت کم رہ گئے ہیں۔

شہریار خان نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہو جاتے تو پھر شاید ماحول بہتر ہو جاتا اور کرکٹ روابط کی بحالی بھی ہو سکتی تھی لیکن مذاکرات کی منسوخی نے کرکٹ سیریز کی امیدوں کو بھی کم کر دیا ہے۔

’سیاسی ماحول گرم رہا تو کرکٹ سیریز مشکل‘

شہریار خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور اس ضمن میں دوبارہ بی سی سی آئی سے رابطہ کیا جائے گا۔

شہریار خان نے بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر کے حالیہ بیانات کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا موقف واضح ہے کہ کرکٹ اور سیاست کو الگ رکھا جائے اور انھیں امید ہےکہ اکتوبر نومبر تک ماحول بہتر ہو جائے تو پھر کرکٹ سیریز کا انعقاد ممکن ہو سکے لیکن فی الوقت یہ امکانات بہت کم ہیں۔

شہریار خان نے بھارتی وزیراعظم مودی کا دو تین ماہ قبل دیا ہوا بیان یاد دلایا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ اہم معاملات پر بات چیت اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک ماحول بہتر نہ ہو جائے لیکن وہ کرکٹ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔

شہریارخان نے کہا کہ 1999 میں جب وہ پاکستانی ٹیم کے منیجر بن کر گئے تھے تو اس وقت بھی پاک بھارت تعلقات کشیدہ تھے اور جب 2004 میں بھارتی ٹیم پاکستان آئی تھی اس وقت بھی تعلقات خوشگوار نہیں تھے لیکن اس وقت بھی کرکٹ ہوئی اور اسی کرکٹ کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی۔

یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری ٹیسٹ سیریز 2007 میں بھارت میں کھیلی گئی تھی ۔

2012 کے اواخر میں پاکستانی ٹیم نے بھارت کا مختصر دورہ کیا تھا۔

اسی بارے میں