ایورسٹ پر چڑھائی کے راستے کی مرمت کا آغاز

زلزلے کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ پر پہلی بار مہم جوئی کے لیے ایک جاپانی کوہ پیما پہلے ہی نیپال پہنچ چکا ہے
،تصویر کا کیپشن

زلزلے کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ پر پہلی بار مہم جوئی کے لیے ایک جاپانی کوہ پیما پہلے ہی نیپال پہنچ چکا ہے

نیپال میں ماہر شرپا کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھائی کے اس راستے کی مرمت کا آغاز کر دیا ہے جو چار ماہ قبل آنے والے زلزلے میں تباہ ہوگیا تھا۔

ایورسٹ کا بیس کیمپ اپریل میں آنے والے اس زلزلے کے نتیجے میں گرنے والے برفانی تودوں کی لپیٹ میں آیا تھا اور اس حادثے میں 18 کوہ پیما اور ان کا مددگار عملہ ہلاک ہوگیا تھا۔

آئس فال ڈاکٹرز نامی ٹیم نے اب پہاڑ کے سروے کا کام شروع کر دیا ہے اور وہ آئندہ چند دنوں میں کھمبو آئس فال کے علاقے میں رسیاں نصب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ علاقہ بیس کیمپ سے پہاڑ پر کیمپ ون کے راستے میں واقع ہے اور یہاں کوہ پیماؤں کو نرم اور ٹوٹتی برف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور رسیوں کی مدد کے بغیر اسے عبور کرنا ممکن نہیں۔

زلزلے کے بعد یہاں برف کے تودے گرنے سے تمام رسیاں اور سیڑھیاں تباہ ہو گئی تھیں۔

آئس فال ڈاکٹرز کے سربراہ آنگ کامی کا کہنا ہے کہ وہ پرامید ہیں کہ وہ راستے کو بحال کرنے میں کامیاب رہیں گے تاکہ موسمِ خزاں میں پہاڑ سر کرنے کے لیے آنے والے کوہ پیما اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکیں۔

،تصویر کا ذریعہKuntal Joisher

،تصویر کا کیپشن

زلزلے کے بعد ایورسٹ پر برف کے تودے گرنے سے تمام رسیاں اور سیڑھیاں تباہ ہو گئی تھیں

زلزلے کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ پر پہلی بار مہم جوئی کے لیے ایک جاپانی کوہ پیما 33 سالہ نوبوکازو کوریکی پہلے ہی نیپال پہنچ چکا ہے اور وہ آئندہ ماہ یہ چوٹی سر کرنے کی کوشش کرے گا۔

نوبوکازو کوریکی نےخبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں کچھ پریشان اور خوفزدہ ہوں جو کہ قدرتی بات ہے اگر آپ ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھنے اور خصوصاً زلزلے کے بعد ایسے اوقات میں چڑھنے کا فیصلہ کریں۔‘

سیاحت نیپال کی واحد صنعت ہے اور کوہ پیمائي اور ٹریکنگ اس کا اہم حصہ ہیں اس لیے حکومت اور مقامی شرپا برادری چاہتی ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ پر مہم جوئی کا سلسلہ جلد از جلد بحال ہو۔

تاہم نیپال میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے خیال میں ماؤنٹ ایورسٹ پر مہم جوئی شروع کرنے کا فیصلہ قبل از وقت ہے اور نیپال ماؤنٹینیئرنگ ایسوسی ایشن کے صدر آنگ سیرنگ شرپا کے مطابق جاپانی کوہ پیما کی مہم ’خطرناک‘ ہے کیونکہ موسمِ خزاں میں موسم اور ہواؤں کی شدت پہلے سے زیادہ ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ یہ لگاتار دوسرا سال ہے کہ ایورسٹ سر کرنے کی مہمات متاثر ہوئی ہیں۔ گذشتہ برس برفانی طوفان میں 16 شرپاؤں کی موت کے بعد اس پہاڑ پر مہم جوئی کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔