’14 ٹیسٹ میچ کھیلنے والا بچہ کیسے ہو سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سپاٹ فکسنگ میں ملوث سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر آئی سی سی کی جانب سے عائد پابندی یکم ستمبر کو ختم ہو رہی ہے

سنہ 2010 میں سپاٹ فکسنگ کا ارتکاب تین پاکستانی کرکٹرز نے کیا لیکن اس جرم میں محمد عامر کو ہمیشہ ایک معصوم مجرم کے طور پر دیکھا جاتا رہا اور اس کی وجہ ان کی کم عمری بتائی گئی۔

محمد عامر کو کم عمری کا فائدہ اس وقت بھی حاصل ہوا جب آئی سی سی کے اینٹی کرپشن ٹریبونل کے سربراہ مائیکل بیلوف نے تینوں کرکٹرز کو سزائیں سناتے وقت کہا کہ اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ عامر کو پانچ سال کے بجائے کم سزا دیتے۔

’سزایافتہ کرکٹرز کی فوری واپسی نہیں ہوگی‘

تینوں کرکٹرز کو جب لندن کی عدالت سے سزا ہوئی تو اس وقت بھی محمد عامر کو کم عمری کا فائدہ حاصل ہوا اور سلمان بٹ اور محمد آصف کے برعکس انھیں عام جیل میں نہیں بھیجا گیا۔

تو کیا سپاٹ فکسنگ کا ارتکاب کرتے ہوئے محمد عامر کو قطعاً یہ بات معلوم نہیں تھی کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں۔

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ’جب کوئی بھی کرکٹر دو سال کی انٹرنیشنل کرکٹ کھیل لیتا ہے تو وہ بچہ نہیں رہتا۔‘

ان کے مطابق ’محمد عامر کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ اسے کس کاؤنٹی سے کتنا معاوضہ مل سکتا ہے اور جو معاوضہ مل رہا ہے وہ کم ہے تو پھر دنیا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ بچہ نہیں تھا۔‘

رمیز راجہ کی طرح راشد لطیف بھی محمد عامر کو کم عمری کا فائدہ دینے کے لیے تیار نہیں۔

راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ’ کم عمری ایک ڈھال ہوتی ہے جسے اکثر و بیشتر استعمال کیا جاتا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ محمد عامر بچہ نہیں تھا جب اس نے سپاٹ فکسنگ کا ارتکاب کیا۔ اسے اچھے برے کی تمیز تھی۔ 14 ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے پوری دنیا گھومنے والا کرکٹر بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘

یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث تینوں کرکٹرز سزا بھگت کر باہر آئے تو اس وقت بھی محمد عامر پر ذرائع ابلاغ نے رحم کی نظر ڈالی اور انہیں ایک بار پھر معصوم بچے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیاگیا۔انگلینڈ کے کپتان مائیکل ایتھرٹن کا انٹرویو اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ مغرب اور مغربی ذرائع ابلاغ کے لیے یہ ایک بڑی کہانی ہو سکتی ہے لیکن پاکستان کے لیے یہ ایک انتہائی شرمناک کہانی ہے۔

’مغرب کو ہمارے سسٹم کا پتہ نہیں ہے وہ ان کرکٹرز کے شرمناک عمل کو اس آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا جو ہم دیکھتے ہیں ہم تو 15 برس سے میچ فکسنگ اور سپاٹ فکسنگ سے ڈسے گئے ہیں اور اب ہم اس طرح کے کسی بھی عمل کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘

اسی بارے میں